کوئٹہ(این این آئی) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر میر طاہر بزنجو نے کہا ہے کہ ملک میں لنگڑی لولی جمہوریت بھی حالتِ نزع میں دکھائی دے رہی ہے سیاسی و غیر سیاسی قوتوں کے گٹھ جوڑ نے جمہوری نظام کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔اپنے بیان میں میر طاہر بزنجو نے کہا کہ وہ مسلسل اس امر کی نشاندہی کرتے آ رہے ہیں کہ اقتدار میں شراکت کے ہر فارمولے کو قبول کرکے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے رہنماؤں نے بدترین نوعیت کی آمریت کی راہ ہموار کی ہییہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے امکانات کو موجودہ سیاسی تناظر میں کسی حد تک سمجھا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالات کے آثار ظاہر کر رہے ہیں کہ اختلافی آوازوں کو سختی سے دبانے کی کوشش کی جائے گی، جو جمہوری اقدار اور سیاسی آزادیوں کے لیے تشویش ناک صورتِ حال ہے۔ میر طاہر بزنجو نے خبردار کیا کہ جب انصاف کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں تو بغاوت کے راستے کھلنے لگتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا خیبر پختونخوا میں پْرامن نوجوان سیاسی کارکنوں کو ایسے حالات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جہاں وہ بندوق اٹھانے پر مجبور ہو جائیں؟انہوں نے کہا کہ کہ سیاسی اختلافات اور عوامی شکایات کا حل جمہوری عمل، انصاف کی فراہمی اور سیاسی آزادیوں کے تحفظ میں ہے نہ کہ اختلافی آوازوں کو دبانے میں۔

