کوئٹہ(این این آئی) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن مرکز کی ہدایات اور احکامات کے تسلسل میں پی ایم اے بلوچستان نے اعلان کیا ہے کہ یکم نومبر 2026 سے صوبہ بھر میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) کی جانب سے ڈاکٹروں اور طبی اداروں پر عائد غیر منصفانہ ٹیکس شرائط کے خلاف غیر معینہ مدت تک ہڑتال کی جائے گی یہ ہڑتال ان شرائط کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی۔ترجمان پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بلوچستان کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ صبح 9 بجے سے 10 بجے تک او پی ڈیز میں ٹوکن ہڑتال ہوگی،نجی ہسپتال، کلینکس اور طبی مراکز: او پی ڈی، آپریشنز اور لیبارٹریز سمیت تمام الیکٹو خدمات مکمل طور پر بند رہیں گی جبکہ مریضوں کی جان کے تحفظ کے لیے ایمرجنسی، ان ڈور، آئی سی یو اور لیبر روم کی خدمات بدستور جاری رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ طبی خدمات کو تجارتی اشیاء کی خرید و فروخت کے برابر قرار دینا، نجی کلینکس اور ہسپتالوں پر پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم کی جبری تنصیب، ہسپتالوں پر چھاپے، بھاری جرمانے اور طبی برادری کو ہراساں کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی جانب سے طبی خدمات پر سیلز ٹیکس کا نفاذ اور اس سے متعلق شرائط مریض دشمن اقدام ہیں علاج ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے کوئی تجارتی سروس نہیں ایک ہی شعبے پر وفاقی اور صوبائی سطح پر دوہرا ٹیکس بوجھ ناانصافی ہے۔ترجمان نے کہا کہ ہسپتال مریضوں کا علاج کرتے ہیں سامان فروخت نہیں کرتے ڈاکٹر پہلے ہی باقاعدگی سے انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں طبی خدمات پر ہر اضافی ٹیکس بالآخر غریب مریض کو منتقل ہوگا اور علاج مزید مہنگا ہو جائے گا،بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں جہاں عوام پہلے ہی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں، یہ اقدامات نجی شعبے کی خدمات کو مفلوج کر دیں گے۔ترجمان نے کہا کہ پی ایم اے بلوچستان نے گزشتہ ماہ سے اضلاع میں ریلیوں، احتجاجی بینرز اور حکام سے ملاقاتوں کے ذریعے پْرامن طور پر اپنا مؤقف پیش کیا مگر مسلسل نظراندازی کے بعد طبی برادری مرکزی قیادت کے فیصلے کے مطابق یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوئی ہے۔ترجمان نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ایف بی آر نجی طبی اداروں پر POS سسٹم کی شرط فوری واپس لے،ہسپتالوں پر چھاپوں اور جرمانوں کا سلسلہ بند کیا جائے،بی آر اے طبی خدمات پر عائد سیلز ٹیکس اور متعلقہ شرائط فوری ختم کرے،وفاقی و صوبائی حکومت طبی برادری سے بامعنی مذاکرات کرے۔ترجمان نے کہا کہ پی ایم اے بلوچستان صوبے کے تمام ڈاکٹروں، نجی ہسپتالوں و کلینکس کے مالکان، لیبارٹریز اور ضلعی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ مرکزی ہدایات کے مطابق ہڑتال پر مکمل اور متحد عمل درآمد یقینی بنائیں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، بی ایم ٹی اے اور دیگر طبی تنظیموں سے بھی بھرپور تعاون کی اپیل کی جاتی ہے عوام سے گزارش ہے کہ ہڑتال کے دوران تعاون کریں ہنگامی صورت میں ایمرجنسی خدمات میسر رہیں گی۔ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان فوری نوٹس لیں بصورت دیگر صورتحال کی تمام تر ذمہ داری وفاقی و صوبائی حکومت، ایف بی آر اور بی آر اے پر عائد ہوگی۔

