عبدوی بارڈر کی بحالی خوش آئند، عوامی حقوق کا تحفظ اور شفاف نظام ناگزیر ہے — انجینئر حمید بلوچ

تربت (رپورٹر) انجینئر حمید بلوچ نے اپنے ایک بیان میں عبدوی بارڈر کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بارڈر کاروبار کیچ اور بلوچستان کے ہزاروں خاندانوں کے روزگار اور معاشی ضروریات سے وابستہ ہے۔ گزشتہ دو سال سے بارڈر کی بندش نے مقامی آبادی، زمباد ڈرائیوروں، مزدوروں اور چھوٹے کاروباری افراد کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ ایسے میں بارڈر کی بحالی ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم اس فیصلے کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بارڈر کھولنا یقیناً ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کی حقیقی افادیت اسی وقت سامنے آئے گی جب کاروباری سرگرمیوں کو منصفانہ، شفاف اور مؤثر طریقے سے منظم کیا جائے گا۔ بارڈر کاروبار پر کسی مخصوص طبقے کی اجارہ داری کے تاثر کو ختم کرنا، کاروباری مواقع کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا اور محنت کش طبقے کے حقوق کا تحفظ متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انجینئر حمید بلوچ نے کہا کہ ماضی میں بارڈر کاروبار کے انتظامی معاملات اور مواقع کی تقسیم کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان تحفظات کو سنجیدگی سے لینا اور ایک ایسا نظام تشکیل دینا ضروری ہے جس میں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو، غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ کی جائیں اور ہر فرد کو شفاف طریقہ کار کے تحت کاروبار کرنے کا موقع میسر آئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زمباد ڈرائیوروں، مزدوروں اور چھوٹے کاروباری افراد کی مشکلات کو نظرانداز کرکے پائیدار معاشی ترقی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ بارڈر کاروبار کے نظام کا جائزہ لیں، شکایات کے ازالے کا مؤثر طریقہ کار متعارف کرائیں اور قواعد و ضوابط پر یکساں عمل درآمد کو یقینی بنائیں، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں روزگار کے محدود مواقع کے پیش نظر بارڈر تجارت محض ایک کاروباری سرگرمی نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی معاشی بقا کا اہم ذریعہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پالیسی سازی میں مقامی آبادی کے مفادات کو ترجیح دی جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو، بے روزگاری میں کمی آئے اور نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع میسر ہوں۔
انجینئر حمید بلوچ نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ عبدوی بارڈر کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم ہماری توقع ہے کہ اس عمل کو شفافیت، انصاف اور عوامی مفاد سے مشروط رکھا جائے گا۔ بارڈر کاروبار کے ثمرات چند افراد تک محدود رہنے کے بجائے عام محنت کشوں اور مقامی آبادی تک پہنچنے چاہییں۔ پائیدار امن، معاشی استحکام اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ عوامی حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ہر سطح پر جواب دہی کو یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں