بلوچستان ہائی کورٹ کا ہزارہ ٹاؤن اور ہزار گنجی میں پینے کے پانی کی عدم فراہمی کا نوٹس،متعلقہ حکام کو ذاتی طور پر پیش ہونے اور جامع رپورٹ جمع کرانے کا حکم

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان ہائی کورٹ کا ہزارہ ٹاؤن اور ہزار گنجی میں پینے کے پانی کی عدم فراہمی کا نوٹس، متعلقہ حکام کو ذاتی طور پر پیش ہونے اور جامع رپورٹ جمع کرانے کا حکم چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ہزارہ ٹاؤن، کرخسہ اور ہزار گنجی میں پینے کے پانی کی فراہمی اور نجی ٹیوب ویل مالکان کی مبینہ اجارہ داری سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کی جانب سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔دورانِ سماعت چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے ریمارکس دیے کہ مذکورہ آئینی درخواست 21 ستمبر 2023ء کو دائر کی گئی تھی، تاہم عدالت کی جانب سے مختلف اوقات میں متعدد احکامات اور بار بار ہدایات جاری کیے جانے کے باوجود کوئٹہ واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی (کیو واسا) کی جانب سے تاحال خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔عدالت کے استفسار پر واسا کے ایگزیکٹو انجینئر نے مؤقف اختیار کیا کہ کرخسہ کے علاقے میں ٹیوب ویلز فعال کیے جا چکے ہیں، جبکہ 3 لاکھ اور 2 لاکھ گیلن گنجائش کے دو آبی ذخائر بھی موجود ہیں، جن کے ذریعے ان علاقوں میں پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے جہاں پائپ لائنوں کا نیٹ ورک دستیاب ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہزار گنجی کے علاقے میں 11 ٹیوب ویلز کی تنصیب کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے، تاہم بعض سرکاری اور انتظامی مسائل کے باعث کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے اہلکاروں کو پولیس کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے بعد کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ اب واسا کے حق میں این او سی جاری ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ باقی ضروری کام آئندہ پانچ سے چھ ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے علاقہ مکینوں، بالخصوص ہزارہ ٹاؤن کے رہائشیوں کی جانب سے واسا کے مؤقف کی تردید کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ علاقے کے مکینوں کو تاحال پینے کے پانی کی مناسب سہولت میسر نہیں اور نجی ٹیوب ویل مالکان مبینہ طور پر پانی کی فراہمی پر اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق علاقہ مکین ماہانہ ادائیگیاں کرنے کے باوجود سرکاری سطح پر پانی کی فراہمی سے محروم ہیں، جبکہ نجی ٹیوب ویل مالکان کی جانب سے پانی کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کی جانب سے 9 اکتوبر 2025ء اور یکم دسمبر 2025ء کو جاری کردہ احکامات کے باوجود نجی ٹیوب ویل مالکان کو واسا کی پائپ لائنوں کے استعمال اور پانی کی فروخت سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے باعث علاقہ مکینوں کے مسائل بدستور برقرار ہیں۔عدالت نے ان حالات کے پیش نظر کمشنر کوئٹہ ڈویڑن، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، منیجنگ ڈائریکٹر واسا، چیف انجینئر واسا، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) اور دیگر متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہونے اور جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، بطور چیئرمین بلوچستان گراؤنڈ واٹر رائٹس، کو خصوصی طور پر ہدایت کی کہ وہ علاقے میں قائم اور فعال ٹیوب ویلز کی مجموعی تعداد، ان کی تفصیلات اور قانونی حیثیت سے متعلق رپورٹ پیش کریں، نیز واضح کریں کہ آیا متعلقہ ٹیوب ویل مالکان کے پاس مجاز حکام کی جانب سے جاری کردہ این او سیز موجود ہیں یا نہیں۔مزید برآں، عدالت نے واسا کے قانونی مشیر کو ہدایت کی کہ وہ بی واسا (B-WASA) کے حوالے سے جاری کردہ قانونی مشورہ بھی عدالتی ریکارڈ پر پیش کریں۔ حکم نامے کی نقول ضروری معلومات اور تعمیل کے لیے متعلقہ حکام اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفتر کو ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 نومبر 2026ء تک ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں