ٹریفک چالان کے نام پر عوام کی زندگی اجیرن بنانے اور مختلف چوکوں پر مبینہ رشوت ستانی کی شکایات کا فوری نوٹس لیا جائے، مولانا عبد الرحمن رفیق

کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سرپرستِ اعلیٰ مفتی محمد روزی خان، مولانا حفیظ اللہ، مولانا محمد سلیمان، حافظ دوست محمد مینگل، مولانا عبدالبصیر، حافظ رشید احمد، حاجی محمد شاہ لالا، مفتی نیک محمد فاروقی اور حاجی نعمت اللہ اچکزئی نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ ٹریفک چالان کے نام پر عوام کی زندگی اجیرن بنانے اور مختلف چوکوں پر مبینہ رشوت ستانی کی شکایات کا فوری نوٹس لیا جائے، ٹریفک پولیس کے ساتھ ٹریفک نظام سے غیر متعلقہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہریوں کو روکنے، بلاجواز تنگ کرنے اور مبینہ طور پر پیسے وصول کرنے کے واقعات تشویش ناک ہیں، قانون کی پاسداری ہر شہری کی ذمہ داری ہے، تاہم قانون کے نام پر عوام کو ہراساں کرنا اور اختیارات کا ناجائز استعمال کسی صورت قابل قبول نہیں، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے لیے شفاف اور یکساں نظام بنایا جائے تاکہ چالان کا مقصد ٹریفک کی روانی بہتر بنانا اور حادثات کی روک تھام ہو، نہ کہ عوام کے لیے مالی پریشانی اور ذہنی اذیت کا سبب بنے۔ رہنماؤں نے کہا کہ دوسری جانب پولیس تھانوں کی بنیادی ذمہ داری جرائم کی روک تھام، چوری، ڈکیتی، رہزنی اور دیگر جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے، لیکن اگر پولیس اہلکار ٹریفک چالان اور شہریوں سے وصولیوں میں مصروف رہیں تو جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ ملنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے، شہریوں کی شکایات کے ازالے اور جرائم پیشہ عناصر کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آئی جی پولیس بلوچستان، ڈی آئی جی کوئٹہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ٹریفک چوکوں پر تعینات اہلکاروں کی نگرانی کا مؤثر نظام بنایا جائے، مبینہ رشوت ستانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، ٹریفک نظام سے غیر متعلقہ اہلکاروں کی غیر ضروری مداخلت روکی جائے اور پولیس تھانوں کو جرائم کی روک تھام، عوام کے تحفظ اور شہریوں کو فوری انصاف کی فراہمی پر توجہ دینے کا پابند بنایا جائے، تاکہ کوئٹہ کے شہری بلاخوف و ہراس زندگی گزار سکیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں