کوئٹہ(این این آئی)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ برانچ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پی ایم اے حاضری کے نظام میں بہتری اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف قانونی کارروائی کی حمایت کرتی ہے تاہم انتظامی اختیارات کے ناجائز استعمال، مبینہ ہراسمنٹ، دھمکیوں اور ناقص انتظامی فیصلوں کے ذریعے فرض شناس ڈاکٹروں اور ملازمین کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتی ہے، اے آئی اٹینڈنس سسٹم کا آزادانہ تکنیکی آڈٹ کرایا جائے اور خامیاں دور ہونے تک متبادل حاضری کا نظام جاری رکھا جائے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ محکمہ صحت کا اے آئی اٹینڈنس سسٹم مسلسل تکنیکی نقائص اور گلیچز کے باعث شفافیت اور افادیت کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کر رہا ہے پی ایم اے کوئٹہ برانچ کی جانب سے ان خامیوں کی نشاندہی کے باوجود ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتیاں تشویش ناک ہیں غیر مصدقہ ڈیجیٹل ڈیٹا کی بنیاد پر سزا دینا ناانصافی ہے۔۔ترجمان نے کہا کہ 72 ملازمین کے خلاف کارروائی سے پہلے ان کے سروس ریکارڈ، استعفوں، طویل رخصت، بیرونِ ملک تعلیم یا ملازمت، پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ اور ڈیپوٹیشن کی انفرادی جانچ ضروری ہے اگر برسوں تک ریکارڈ درست نہیں رکھا گیا تو اس انتظامی غفلت کی ذمہ داری بھی متعین ہونی چاہیے۔ترجمان نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے ہیلتھ بجٹ، پروکیورمنٹس، ٹینڈرز اور ترقیاتی اخراجات کی تفصیلات سامنے لائی جائیں جب سرکاری ہسپتالوں میں ادویات اور بنیادی سہولیات کی کمی برقرار ہے تو بھاری اخراجات کے باوجود مطلوبہ بہتری کیوں نہیں آئی؟ ان معاملات کا آزادانہ آڈٹ اور متعلقہ ریکارڈ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔ترجمان نے کہا کہ ہم اعلیٰ حکام اور انتظامی ذمہ داران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں کی سہولیات بہتر بنانے کو ترجیح دیں اور ان اداروں پر عملی اعتماد کا مظاہرہ کریں عوام کو معیاری علاج، ادویات اور بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹروں کو ضروری ادویات، انجیکشن اور علاج تجویز کرنے سے روکنے کے بجائے ہسپتالوں میں ادویات اور طبی وسائل کی دستیابی یقینی بنائی جائے مریض کے مفاد میں طبی فیصلے ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہیں؛ انتظامی مسائل کا بوجھ مریضوں اور معالجین پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ترجمان نے کہا کہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ میں مبینہ مالی مطالبات، بدتمیزی، دھمکیوں، خواتین ملازمین کی تذلیل اور اسلحے کی نمائش جیسے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں کسی بھی شکایت پر کارروائی قانون اور باقاعدہ محکمانہ طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔ترجمان نے کہا کہ پی ایم اے کوئٹہ کا مطالبہ ہے کہ اے آئی اٹینڈنس سسٹم کا آزادانہ تکنیکی آڈٹ کرایا جائے اور خامیاں دور ہونے تک متبادل حاضری کا نظام جاری رکھا جائے، غیر مصدقہ حاضری ریکارڈ کی بنیاد پر تنخواہوں کی کٹوتیاں اور تادیبی کارروائیاں روکی جائیں، جبکہ متاثرہ ملازمین کو اپیل اور شنوائی کا حق دیا جائے،3. 72 ملازمین کے کیسز کا انفرادی اور غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر سروس ریکارڈ کی تصدیق کی جائے، گزشتہ دو سال کے ہیلتھ بجٹ، پروکیورمنٹس اور اخراجات کا آڈٹ کروا کر رپورٹ متعلقہ فورمز، بشمول پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، کے سامنے پیش کی جائے، مبینہ کرپشن، مالی مطالبات، ہراسمنٹ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی تحقیقات کرائی جائیں، ہسپتالوں میں ادویات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ڈاکٹروں کے پیشہ ورانہ فیصلوں میں غیر ضروری مداخلت بند کی جائے، ملازمین کا درست اور اپ ڈیٹ سروس ریکارڈ مرتب کیا جائے اور فرض شناس ملازمین کو عزت، تحفظ اور قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔ترجمان نے کہا کہ پی ایم اے کوئٹہ برانچ واضح کرتی ہے کہ ہمارا مقصد محاذ آرائی نہیں بلکہ محکمہ صحت میں حقیقی اصلاحات، شفافیت اور جواب دہی ہے غیر حاضر ملازمین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، لیکن انتظامی نااہلی کی سزا کسی بے قصور ملازم کو نہیں ملنی چاہیے عوام کو معیاری علاج، ڈاکٹروں کو عزت و تحفظ اور محکمہ صحت کو نمائشی اقدامات کے بجائے حقیقی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

