ڈاکٹر رشید احمد خاں
امریکہ کے مڈٹرم انتخابات کے نتائج کے بارے میں تقریباً متفقہ رائے یہی تھی کہ ان میں صدر ٹرمپ کی جماعت‘ ریپبلکن پارٹی کو ڈیموکریٹک پارٹی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ تقریباً ہر منتخب امریکی صدر کی مدتِ صدارت کے ابتدائی دو سال مکمل ہونے کے بعد ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں ان کی جماعت کو پہلے سے کم ووٹ ملتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے پہلے دو سال کے دوران متعدد ایسے متنازع اقدامات کیے کہ امریکی رائے عامہ کا ایک بڑا حصہ ان سے سخت اختلاف کرنے لگا۔ ان میں ایران جنگ بھی شامل تھی۔
امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کے حالیہ انتخابات کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما چک شومر نے کہا کہ ”امریکی عوام آج تک یہ بات سمجھ نہیں پائے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف کیوں جنگ کر رہا ہے؟ صدر ٹرمپ نے اس کی کبھی وضاحت نہیں کی‘ بلکہ وہ ہر روز اپنا بیان بدل لیتے ہیں‘‘۔ ایران جنگ کی وجہ سے توانائی کا بحران پیدا ہوا اور اس سے سب سے زیادہ امریکی عوام متاثر ہوئے‘ کیونکہ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ توانائی استعمال کرنے والا ملک ہے۔ توانائی کی قیمتیں بڑھیں تو باقی ضروریاتِ زندگی بھی مہنگی ہو گئیں‘ جس سے صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آیا۔ لیکن کانگریس کے دونوں ایوانوں‘ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ‘ اور ان کیساتھ امریکی ریاستوں کے گورنروں کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں کو ایسی شکست ہوئی جو صدر ٹرمپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ ان کو زعم تھا کہ پورے امریکہ میں ان کا کوئی ثانی نہیں اور وہ امریکی عوام میں بہت مقبول ہیں۔ اس لیے وہ جو بھی قدم اٹھائیں گے‘ خواہ وہ امریکی اقدار اور مروجہ عالمی قوانین کے خلاف ہی کیوں نہ ہو‘ امریکی عوام اس کی حمایت کریں گے۔ اس زعم میں انہوں نے دو بار (جون 2025ء اور فروری 2026ء میں) اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا اور اب ہر روز پہلے سے زیادہ تباہ کن حملے کی دھمکی دیتے ہیں‘ حالانکہ ممتاز دانشور اور ماہرینِ قانون‘ جن میں امریکی شخصیات بھی شامل ہیں‘ ایران امریکہ جنگ کو بلاجواز‘ غیر قانونی اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دے چکے ہیں۔
امیگریشن اور ٹیرف کے مسئلے پر صدر ٹرمپ نے محض سیاسی مفاد حاصل کرنے کیلئے ایسی سخت گیر پالیسی اختیار کی کہ خود امریکہ کے اندر بنیادی انسانی حقوق کے دفاع کیلئے کام کرنے والی تنظیموں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا‘ مگر صدر ٹرمپ کا رویہ اتنا رعونت آمیز تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق‘ جب ریپبلکن پارٹی کے بعض پرانے اور تجربہ کار رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی غلط سمت میں جا رہی ہے تو ٹرمپ نے ان کی بات سنی اَن سنی کر دی۔ بلکہ ایسے لوگوں کو انہوں نے سائیڈ لائن کر کے نئے اور نوجوان افراد کو اپنے قریبی حلقے میں شامل کر لیا‘ جنہیں امریکہ کی سیاست اور اسکے محرکات کا کوئی علم نہیں تھا‘ اور صدر ٹرمپ انہی کے مشوروں اور آرا پر عمل کرتے رہے۔ ایک تبصرہ نگار کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایسے لوگ پسند ہیں جو خوشامدی ہوں اور ہر وقت انہیں یقین دلاتے رہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں‘ ٹھیک کر رہے ہیں۔ انہیں اپنے بارے میں ناقابلِ تسخیر اور قسمت کا دھنی ہونے کا اتنا یقین ہے کہ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ مٹی کو بھی ہاتھ لگائیں گے تو وہ سونا بن جائے گی۔ اسی زعم میں انہوں نے ملک کی تین اہم ریاستوں‘ ساؤتھ کیرولائنا‘ نارتھ کیرولائنا اور ٹیکساس میں اپنی مرضی کے امیدواروں کو کھڑا کیا مگر وہ عوام میں غیر مقبول تھے اس لیے ہار گئے۔ اسی طرح مشی گن میں عبدالرحمن محمد السید کو ہرانے کیلئے صدر ٹرمپ خود میدان میں آ گئے اور ڈیموکریٹک امیدوار کو جہادی‘ دہشت گردوں کا ساتھی‘ انتہا پسند خیالات کا حامی اور کمیونسٹ کہہ کر ووٹروں کو ان سے دور بھگانے کی کوشش کی۔ بے تحاشا ڈالر خرچ کیے لیکن عبدالرحمن السید پھر بھی جیت گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جب انتخابات کا پانسہ پلٹنے کیلئے صدر ٹرمپ خود میدان میں آ گئے اور امیدواروں کے ساتھ جلوسوں میں شرکت کرنے لگے تو 2024ء کے برعکس‘ ان کی موجودگی کے باوجود بہت کم لوگوں نے جلوسوں میں شرکت کی‘ اور جنہوں نے شرکت کی ان میں بھی کوئی جوش و خروش دکھائی نہیں دیا۔ وہیں سے یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں کی جیت بہت مشکل ہے اور ووٹنگ کے روز جب ریپبلکن پارٹی کے ووٹرز گھروں سے باہر نہ نکلے تو یہ خدشہ سچ ثابت ہو گیا۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق حیران کن بات یہ تھی کہ 2024ء میں جن لوگوں نے صدر ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا‘ انہوں نے اس دفعہ ڈیموکریٹک امیدواروں کو ووٹ دیا کیونکہ وہ صدر ٹرمپ سے ناراض تھے۔
ان کی ناراضی کی کیا وجوہات ہیں؟ اس سوال کے علاوہ دو اور اہم سوالات پر اس وقت بحث جاری ہے اور وہ سوال ہیں؛ اگلے دو سال میں صدر ٹرمپ کی پالیسی اور کارکردگی کیسی رہے گی؟ اور کیا ایران کے ساتھ جنگ بند ہو جائے گی؟ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے اس کے جواب میں اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی صدارت کے یہ آخری دو سال کانگریس کے ساتھ لڑائی جھگڑوں میں ہی گزریں گے اور انہیں اپنی مدتِ صدارت کے پہلے دو برسوں کی طرح کسی بڑی مہم جوئی کا موقع نہیں مل سکے گا کیونکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے واضح کر دیا ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد وہ گزشتہ دو برسوں اور اس سے پہلے کی پوری مدت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کیے گئے خلافِ قانون اقدامات اور کانگریس کے حقوق کو نظر انداز کرنے کے معاملات کی تحقیقات کرائیں گے اور صدر ٹرمپ کو عدالت کے کٹہرے میں لائیں گے۔ اس کیلئے جس قسم کی قانون سازی کی ضرورت پیش آئے گی‘ وہ بھی کی جائے گی۔ اس خدشے کا احساس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے کانگریس میں ”نامناسب قانون سازی‘‘ کی گئی تو وہ ان بلوں کو ویٹو کر دیں گے۔ امریکہ کے سیاسی اور آئینی نظام میں صدر کو غیر معمولی اختیارات دیے گئے ہیں۔ ان میں ایک اختیار ویٹو کا ہے‘ جس کے تحت کانگریس کی طرف سے منظور کردہ بل پر صدر اپنے دستخط کرنے سے انکار کر سکتے ہیں‘ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ کسی بھی بل کو ویٹو کر سکتے ہیں۔ کانگریس صدر کے اس ویٹو کو ختم کر سکتی ہے مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوان‘ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ‘ علیحدہ علیحدہ اس بل کو دو تہائی اکثریت سے منظور کریں۔ اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کو کسی بھی ایوان میں دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے اس لیے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود ڈیموکریٹک پارٹی صدر ٹرمپ کے ویٹو کو اوورٹرن کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ دوسرا راستہ دونوں پارٹیوں کا مصالحت کے ماحول میں مل جل کر ملک کے معاملات چلانے کا ہے۔ صدر ٹرمپ نے انتخابات کے نتائج آنے کے فوراً بعد اعلان کیا کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل جل کر چلنے کیلئے تیار ہیں‘ مگر ڈیموکریٹک پارٹی کا رویہ مختلف ہے۔ امریکی میڈیا اور ڈیموکریٹک پارٹی کے قریبی حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی ٹرمپ فیملی کے کاروباروں کی تحقیقات کا ارادہ رکھتی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے مطابق ٹرمپ فیملی کے ارکان بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ اسکے علاوہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس میں اپنی اکثریت کے بل بوتے پر صدر ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے پہلے دو برسوں میںICE (یو ایس امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کی سرگرمیوں کو روکنے اور محکمہ صحت میں کیے گئے اقدامات کو منسوخ کرنے کی کوشش کرے گی تو صدر ٹرمپ اور کانگریس کے مابین چپقلش ناگزیر ہو جائے گی۔ (جاری)
Load/Hide Comments

