کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صوبائی ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر کے تاجر اور عوام مکمل طور پر ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں، ہر گزرتے دن کے ساتھ شہر میں ڈکیتی، راہزنی اور اسلحے کے زور پر لوٹ مار کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، تدارک کیلئے عملی اقدامات ناگزیز ہے، یہ بات انہوں نے گزشتہ روز تاجر رہنماؤں سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف کاغذی کارروائیوں اور بیانات تک محدود، روزانہ کے واردات ان کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہزارگنجی میں تاجر اتحاد کے صدر سید حیدر آغا اور ان کے ساتھی پر ہونے والا قاتلانہ حملہ نہ صرف ایک تشویشناک واقعہ ہے بلکہ اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ جرائم پیشہ افراد اب شہر کے نمائندہ تاجروں کو بھی نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچاتے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس واقعے کے کئی دن گزر جانے کے باوجود حملہ آور آج تک قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں انتظامی پشت پناہی بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ کاشف حیدری نے مزید کہا کہ اسی طرح ہزارہ ٹاؤن میں چند روز قبل دن دہاڑے مسلح ملزمان نے شہری سے اسلحے کے زور پر موٹرسائیکل چھین لی، اس واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس میں ملزمان کے حرکات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں، مگر اس کے باوجود آج تک نہ تو کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور نہ ہی کوئی سراغ ملا ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ پولیس کی رٹ ختم ہوتی جا رہی ہے اور شہر میں جرائم پیشہ افراد بے خوف و خطر وارداتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں تاجروں اور عام شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر خوف، غیر یقینی صورتحال اور عدم تحفظ کا سامنا ہے، جبکہ پولیس صرف روایتی گشت اور رسمی مقدمات درج کرنے پر اکتفا کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت وقت، وزیر اعلیٰ بلوچستان، آئی جی پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ کوئٹہ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، ہزارگنجی اور ہزارہ ٹاؤن سمیت شہر بھر میں پیش آنے والے جرائم کی مکمل تحقیقات کی جائیں، مجرموں کو فوری گرفتار کر کے عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے، پولیس کو جدید ٹیکنالوجی، وسائل اور اختیارات فراہم کیے جائیں، اور ان افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کاشف حیدری نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے تاجروں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے سنجیدہ اور عملی اقدامات نہ کیے تو تاجر برادری خاموش نہیں بیٹھے گی بلکہ احتجاج کا دائرہ پورے صوبے تک پھیلایا جائے گا، اور آئندہ لائحہ عمل کا اعلان تاجر قیادت باہمی مشاورت سے کرے گی۔

