بلوچستان کمیونٹی سکولز ٹیچرز ایسوسی ایشن کا جائز مطالبات کے حل کیلئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ 39ویں روز بھی جاری رہا

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان کمیونٹی اسکولز ٹیچرز ایسوسی ایشن کا اپنے جائز مطالبات کے حل کیلئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ 39ویں روز بھی جاری رہا جمعہ کو مختلف سیاسی جماعتوں اور ملازمین تنظیموں کے رہنماوں نے آکر اساتذہ سے اظہار یکجہتی کیا۔احتجاجی کیمپ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بلوچستان کمیونٹی اسکولز ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر امین اللہ خان میانی نے کہا کہ کمیونٹی اساتذہ بلوچستان بھر میں اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے سرانجام دے رہے ہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت بلوچستان اور بلوچستان ایجوکیشن فاونڈیشن نے تاحال ہمارے اس سنجیدہ احتجاج پر کوئی توجہ نہیں دی ہے مسلسل خاموشی نے اساتذہ کو شدید مایوسی میں مبتلا کردیا ہے بلکہ تعلیمی نظام کے مستقبل پر بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمیونٹی اساتذہ وہ اساتذہ ہیں جنہوں نے بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں تعلیمی نظام کو فروغ دیا انتہائی قلیل تنخواہ اور محدود وسائل اور بے سروسامانی کے باوجود کمیونٹی اساتذہ نے تعلیم کا علم بلند رکھا لیکن آج کمیونٹی اساتذہ خود معاشی،ذہنی اورانتظامی استحصال کا شکار ہیں ایک طرف مہنگائی کا طوفان ہے تو دوسری طرف ہمیں صرف32ہزار روپے تنخواہ دی جارہی ہے جو کہ انتہائی قلیل ہے اورایک تھڑ پارٹی کے ساتھ کنٹریکٹ کررکھا ہے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جاب سیکورٹی اور مستقبل کا کوئی تحفظ نہیں ہے ہم وزیر تعلیم، وزیرخزانہ چیف سیکرٹری،سیکرٹری تعلیم اور مینجنگ ڈائریکٹر سے اپیل کرتے ہیں کہ تھرڈ پارٹی کو ختم کرکے ٹیچروں کا براہ راست بی ای ایف کے ساتھ معاہدہ کیا جائے اور ٹیچروں کی تنخواہوں میں اضافہ کرکے ہماری معاشی ضروریات کو پورا کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں