کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صوبائی ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ عام تاجر یا شہری کے لیے بینک میں دو لاکھ روپے تک کی رقم جمع کرانے پر ٹیکس کٹوتی کی روک تھام، مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری اور ملک بھر کے تاجر رہنماؤں کی مسلسل کاوشوں، قومی مزاج اور اتحاد کا عملی نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی قیادت کو باضابطہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر کوئی شہری یا تاجر دو لاکھ روپے یا اس سے کم نقد رقم بینک میں جمع کرائے گا تو اس پر کسی قسم کی خودکار ٹیکس کٹوتی نہیں کی جائے گی۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ کاشف حیدری نے کہا کہ یہ فیصلہ چھوٹے تاجروں کے لیے ایک بڑی سہولت اور دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہے کیونکہ حال ہی میں ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس نظام میں مجوزہ تبدیلیوں کے باعث دو لاکھ روپے کی بینک جمع پر ٹیکس کٹوتی کی خبریں سامنے آئیں، جس نے کاروباری طبقے میں بے چینی پیدا کی اور بینکاری نظام پر اعتماد کو مجروح کیا۔ اب اس یقین دہانی کے بعد تاجر برادری کو نہ صرف بینکنگ نظام اختیار کرنے میں آسانی ہوگی بلکہ مالی شفافیت اور قومی معیشت میں ان کی شمولیت بھی مزید مستحکم ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے ہمیشہ پْرامن، باوقار اور حقیقت پسندانہ مؤقف کے ذریعے تاجر برادری کے مسائل اعلیٰ سطحوں پر اجاگر کیے، اور یہ حالیہ کامیابی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جب قیادت مخلص ہو اور تاجر متحد ہوں تو ریاستی فیصلے بھی تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم تاجروں کے حقوق، کاروباری آزادی اور ظالمانہ ٹیکس پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا عمل آئندہ بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔

