لسبیلہ(رپورٹ بیوروچیف حفیظ دانش)جماعت اسلامی بلوچستان 25جولائی کو کوئیٹہ سے اسلام آباد لانگ مارچ کریں گے جس کی قیادت امیر بلوچستان جماعت اسلامی و ایم پی اے بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت رحمان کریں گے بلوچستان میں ظلم کے خلاف تاریخی لانگ مارچ ہوگا بلوچستان مدنیات قدرتی وسائل سے مالامال ہے لسبیلہ بھی قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لیکن بلوچستان والوں کو قدرتی وسائل سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہورہا ہے بلوچستان کے مرد و خواتین اسیران کو فوری رہا کیا جائے اور انہیں معزز عدالتوں میں پیش کیا ہے اور ایف سی کو بلوچستان سے فوری بے دخل کیا جائے ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی لسبیلہ جماعت اسلامی کے ضلعی امیر عبدالرئوف نائب امیر مولانا عبدالمالک رونجھو نور علی صدر الخدمت صدام حسین داد رحیم ودیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان بارڈر کی بندش بے روز گاری میں بے تحاشہ اضافہ ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان اسیران بلوچوں کی رہائی ودیگر ایم مسائل پر بات چیت کی اور انہوں نےمطالبات پیش کئے اسلام آباد کے حکمرانوں نے بلوچستان کے عوام کو زوال سے تیسرے درجے کا شہری قرار دیا اسلام آباد کے حکمرانوں نے بلوچستان کے 65فیصد نوجوانوں کو روز گار دینے کی بجائے ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ کردیا ہےاسلام کے حکمرانوں نےبلوچستان میں اغوا برائے تاوان اور ڈیتھ اسکواڈ اور مافیا کے زریعے یہاں کے تاجروں ڈاکٹروں اساتذہ معصوم طلبہ اور نوجوانوں کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے بلوچستان میں تعلیمی ادارے اور یونیوسٹیاں صوبائی گرانٹ کی بندش کی وجہ بند ہورہی ہیں انہوں نے کہا کہ ان حالات میں بلوچستان کے عوام کے لیے مایوسی کی بجائے پرامن اور آئینی مزاحمت کی ضرورت ہے خوف کے ماحول کو توڑنے کے لے میدان میں نکلنے کی ضرورت ہے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد کے حکمرانوں کے ظلم و جبر کے خلاف بلوچستانبکےعوام کو بیدار کریں گے

