کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے اسوقت مایوسی اور بے چینی کا شکار ہیں وزراء اور ارکان اسمبلی کارکنوں کو نظر انداز کررہے ہیں جو کسی بھی طرح پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے،پارٹی کے صوبائی صدر اور دیگر عہدیداروں کا یہ کہنا کہ پارٹی کارکن پیپلز پارٹی کے پیغام کو گھر گھرپہنچائیں ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کارکن کس منہ سے عوام کے پاس جائیں عام انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی نے عوام سے جو وعدے کئے تھے ان پر عملدرآمد نہیں ہورہا اور عوام پارٹی کارکنوں کو طعنے دیتے ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں گذشتہ مالی سال کے دوران صوبے کی ترقی کے نام پر200ارب روپے حکومتی خزانے سے جاری ہوئے لیکن صوبے میں کہیں ترقی نظر نہیں آرہی ہے کوئٹہ بلوچستان کا دارالخلافہ ہونے کے باوجود کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے جیالے جب اپنے چھوٹے موٹے کام لیکر پارٹی کے وزراء اورارکان اسمبلی کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کے ووٹ سے نہیں آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ عوام اور پارٹی کارکنوں کے ووٹ سے برسراقتدار نہیں آئے تو ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ کس کے ووٹ سے اسمبلی تک پہنچے ہیں۔لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ پارٹی کارکن مایوس ہوچکے ہیں جب وہ عوام کے پاس جاتے ہیں تو عوام انہیں طعنے دیتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں نہ صرف دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ کرپشن اوربدعنوانی بھی بڑھ گئی ہے اورعوام کے مسائل حل نہیں ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے قائدین کو بلوچستان میں جیالوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اسکے ازالے کیلئے اقدامات کرنے ہونگے بصورت دیگر بلوچستان میں کوئی پیپلز پارٹی کا نام لینے والا نہیں ہوگا۔

