آئین و قانون و عدالتی نظائر کی روشنی میں قانون سے ماوراء افراد کا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا قابل تعزیر جْرم ہے،امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ

کوئٹہ(این این آيی) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے گذشتہ شب وزیراعلی بلوچستان کے ترجمان کا ایک ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں صوبہ پختون خواہ و سندھ میں جرگوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جواز پیش کرتے ہوئے اپنے صوبے میں بھی جرگوں کے فیصلوں کی توثیق کی جسارت کی ہے حالانکہ آئین و قانون و عدالتی نظائر کی روشنی میں قانون سے ماوراء افراد کا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا قابل تعزیر جْرم ہے ترجمان سمیت ہر شہری و حکومت ہائی و سپریم کورٹ کے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد کا پابند ہے سپریم کورٹ نےPLD 1993 SC 341 میں پیپلز پارٹی سمیت ڈیرہ بگٹی کے متاثرین کے وکلاء جناب عزیزاللہ میمن و میر نواز مری مرحومین کی درخواست پر اس وقت بلوچستان میں نافذ العمل جنرل ایوب کا قانون آرڈینس 2 آف 1968 کو کالعدم قرار دیگر جرگوں کے انعقاد کو آئین کے منافی قراردیا تھا اور تمام فوجداری مقدمات متعلقہ سیشن ججز کو بھجوا دئیے گئے تھے ویسے پیپلز پارٹی کے ہی بانی ذوالفقار علی نے ہی بلوچستان میں سرداری نظام کے خاتمے کا ایکٹ 1976 نافذ کردیا تھا جناب وزیراعلی صاحب و چیف سیکریٹری و سیکریٹری داخلہ جو میرے لئے قابل احترام ہیں ذاتی طور پر ہر دو افسران کا دل سے قدر کرتا ہوں مگر یاددھانی کرانا میرا فرض ہے کہ ترجمان صاحب بیان اگر حکومت بلوچستان کی ترجمانی ہے تو آئین کے آرٹیکل 129/130 اور مصطفی ایمپیکس کیس PLD 2016 SC 808 کی روشنی میں گورنر و وزیراعلی و کابینہ آئین کے آرٹیکل 189 کی خلاف ورزی اور آرٹیکل 204 کے تحت توھین عدالت کی کاروائی کا مستوجب ھوسکتے ہیں اسلام آباد ھاء کورٹ نے کل ہی وزیراعظم و وفاقی کابینہ کو توھین عدالت کے نوٹس جاری کردئیے عدالت فیصلے و ھدایت کی خلاف ورزی کے تناظر میں اسی طرح CPC کے تحت متعلقہ محکمہ کا سیکریٹری و کابینہ کے سیکریٹری کی ذمہ داریاں بھی متعین ہیں لہذا ترجمان کی باز پْرس و سرزنش یا پھر تہس نہس

اپنا تبصرہ بھیجیں