دالبندین بازاروں میں خواتین چور گروہ کی سرگرمیاں، تاجر برادری کی پولیس، انتظامیہ اور انجمن تاجران سے مؤثر اقدامات کی اپیل

دالبندین(این این آئی)دالبندین کے بازاروں، بالخصوص شاپنگ گلی اور مسجد روڈ کے اطراف، ایک منظم چور خواتین کا گروہ سرگرم ہے، جو خریداری کا بہانہ بنا کر دکانوں میں داخل ہوتا ہے اور موقع ملنے پر نقدی یا قیمتی اشیاء چوری کر لیتا ہے۔ اس صورتحال پر تاجر برادری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور انجمن تاجران سے مؤثر اور فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔تاجروں کے مطابق اس گروہ میں تین سے چار خواتین شامل ہیں، جن میں ایک عمر رسیدہ جبکہ دیگر نوجوان ہیں۔ یہ خواتین براہوی زبان بولتی ہیں اور ان کے ہمراہ چند کم عمر بچے بھی ہوتے ہیں، جنہیں چوری کے عمل میں معاونت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہ گروہ باتوں میں الجھا کر یا ہجوم کا فائدہ اٹھا کر چوری کرتا ہے، اور اگر مزاحمت کی جائے تو شور شرابا کر کے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔تاجر برادری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خواتین ہونے کی بنیاد پر جرم کو نظر انداز نہ کیا جائے، کیونکہ قانون سب کے لیے یکساں ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی ہے کہ انجمن تاجران، پولیس اور مقامی انتظامیہ مل کر بازاروں میں مشترکہ سیکیورٹی نظام قائم کریں اور گشت کو مزید مؤثر بنایا جائے۔تاجروں نے امید ظاہر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور انجمن تاجران اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے اور عوام و تاجروں کے تحفظ کے لیے فوری اور مثبت اقدامات کریں گے، تاکہ دالبندین کے بازار محفوظ، پْرامن اور کاروبار کے لیے سازگار رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں