کول مائنز کے مزدور انتہائی خطرناک اور مشکل حالات میں ہزاروں فٹ زیر زمین کام کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں،پیرمحمدکاکڑ

کوئٹہ(این این آئی) کول مائنز ورکرز یونین شاہرگ کے زیر اہتمام نو منتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری کے سلسلے میں ایک پر وقار تقریب منعقد ہوئی پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان کے جنرل سیکرٹری پیر محمد کاکڑنو منتخب عہدیداوں سے حلف لیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی یو ڈبلیو ایف بلوچستان کے جنرل سیکرٹری پیر محمد کاکڑ کول مائنز ورکرز یونین شاہرگ کے نومنتخب صدر ہارون رشید، چیئرمین سید حکیم، پی یو ڈبلیو ایف بلوچستان کے رہنماؤں اللہ بخش کرد، محمد زمان، نعمت اللہ، عدالت خانپی ایم ڈی سی یونین شاہرگ کے رہنماوں محمد رفیق خوشحال خان اور دیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کول مائنز کے مزدور انتہائی خطرناک اور مشکل حالات میں ہزاروں فٹ زیر زمین کام کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ نہ صاف پانی ہے، نہ مناسب رہائش، نہ فرسٹ ایڈ اور نہ ہی حادثات کی صورت میں ایمبولینس کا بندوبست اور نہ ہی بنیادی لازمی ٹریننگ کے لئے کوئی طریقہ کار موجود ہیں ورکرزکی ای او بی آئی اور دیگر ویلفیئر اداروں میں رجسٹرڈ ہی نہ ہونے کے برابرہیں ان بنیادی چیزوں کے فقدان کی وجہ سے آئے روز حادثات ہوتے ہیں جس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتے ہیں۔پیر محمد کاکڑ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مائنز میں ہیلتھ اینڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل کرایا جائے حادثات کے روک تھام کے لئے مائنز میں کام شروع کرنے سے پہلے ورکرزکوبنیادی حفاظتی تربیت کو لازمی قرار دیا جائے گیس معلوم کرنے کا آلہ کی موجودہ گی ہر مائن پر لازمی قرار دیا جائے فرسٹ ایڈ کا مکمل انتظام اور ٹرینڈ طبی عملہ ہر مائن پر تعینات کیا جائے تمام مائنز ورکرز کو ای او بی آئی میں رجسٹرڈ کیا جائے کول مائنزائریاز میں ایمبولینس سروس فوری طور پر مہیا کی جائے تاکہ شہید یا ذخمی کو فوری طور پر ہسپتال تک پہنچایا جاسکے انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حادثے کی صورت میں زخمی یا شہید مزدوروں کو فوری معاوضہ دیا جائے حادثات کے روک تھام کے لئے مائنز کا باقاعدہ انسپکشن کیا جائے اور انہیں جدید آلات سے آراستہ کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ پی ڈبلیو ایف بلوچستان حکومت سے مطالبہ کہ کول مائنز کو صنعت کادرجہ دیں اوردہشت گردی میں شہادت کے صورت میں اسلامی دیت ایک لاکھ کمپنسیشن دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں