صحبت پور(این این آئی)سیاسی، سماجی اور قبائلی شخصیت میر سرفراز خان کھوسہ نے ڈسٹرکٹ پریس کلب صحبت پور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی برکت علی کھوسہ اور ان کے بھائی امجد علی کھوسہ پر زرعی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کا الزام عائد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے آبا و اجداد کی زرعی زمینیں، جو مانجھی پور کے قریب واقع ہیں، قانونی طور پر ان کے خاندان کے نام منتقل شدہ ہیں، تاہم ڈی آئی جی برکت کھوسہ اور ان کے بھائی نے مسلح افراد کے ذریعے زبردستی ان زمینوں پر قبضہ جما لیا ہے۔میر سرفراز کھوسہ کا کہنا تھا کہ ریونیو ڈپارٹمنٹ کا فیصلہ بھی ان کے حق میں موجود ہے، مگر بااثر افسران نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے انصاف کے عمل کو روک رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زمینوں پر قابض افراد نے مسلح افراد تعینات کر کے خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔انہوں نے چیف جسٹس بلوچستان، آئی جی ایف سی، وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکریٹری اور ڈی آئی جی نصیرآباد سے مطالبہ کیا کہ ان کی زرعی زمینیں فوری طور پر واگزار کرائی جائیں۔ سرفراز کھوسہ نے خبردار کیا کہ اگر حالات بگڑے تو اس کی تمام تر ذمہ داری ڈی آئی جی برکت کھوسہ، ان کے بھائی اور متعلقہ پولیس حکام پر عائد ہوگی۔

