بلوچستان کو نظرانداز کرنا قومی یکجہتی کے لیے خطرہ ہے، حافظ منیر حسین احمد

کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ منیر حسین احمد نے کہا ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو محرومیوں کے اندھیرے سے نکالے بغیر ملک میں پائیدار امن اور ترقی ممکن نہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ منیر حسین احمد کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کو ریاست سے شکایت ہے، دشمنی نہیں، اگر ہم ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کے درد کو جرم سمجھیں گے، تو یہ روش ملک کو مزید تقسیم کی طرف لے جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں، نوجوان بیروزگار ہیں اور وسائل پر مقامی لوگوں کا اختیار نہ ہونے کے برابر ہے۔ سوئی کی گیس سے پورا ملک گرم ہے، مگر سوئی خود آج بھی ٹھنڈ میں ٹھٹھرتی ہے، یہ کیسی ریاستی حکمت عملی ہے؟ جے یو آئی رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ آئین، جمہوریت اور پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، لیکن بلوچستان کے عوام کے آئینی حقوق پر خاموشی اختیار کرنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ طاقت کی بجائے مکالمے کا راستہ اپنائے، اور تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک نیشنل ڈائیلاگ کا آغاز کرے تاکہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی، معاشی اور سماجی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔ حافظ منیر حسین احمد نے خبردار کیا کہ اگر بلوچستان کے عوام کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف صوبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے پاکستان کو متاثر کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں