خسارے کے نام پر قومی اثاثے بیچنے کی تیاری، حکومت سرمایہ داروں کی نمائندہ بن چکی ہے، حافظ منیر حسین احمد

کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علماء اسلام کے رہنما حافظ منیر حسین احمد نے وزیراعظم شہباز شریف کے اس بیان پر شدید تنقید کی ہے جس میں انہوں نے ملک کے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے اور نجکاری کمیشن کو مکمل قانونی خودمختاری دینے کا اعلان کیا ہے حافظ منیر حسین احمد نے اس اقدام کو ”قومی اثاثوں کی نیلامی“قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حکومت عوامی مفاد کے بجائے سرمایہ دارانہ مفادات کی محافظ بن چکی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ خسارے کی آڑ میں ملک کے قیمتی اثاثے نجی ہاتھوں میں دینا دراصل ریاستی ناکامی کا کھلا اعتراف ہے۔ یہ ملک عوام کا ہے، سرمایہ داروں کا تجربہ گاہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن اداروں کو خسارے کا جواز بنا کر بیچنے کی تیاری کی جا رہی ہے، ان کا نقصان دراصل بیوروکریسی، بدعنوانی اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے ہے، نہ کہ ان اداروں کی ساخت کی وجہ سے۔ حافظ منیر حسین احمد نے کہا کہ نجکاری کمیشن کو قانونی خودمختاری دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت احتساب سے بچ کر چھپ کر فیصلے کرنا چاہتی ہے، یہ فیصلہ دراصل اس ملک کے محنت کش طبقے، سرکاری ملازمین اور نچلے طبقے کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت نے کبھی ان اداروں کی بہتری کے لیے پالیسی اصلاحات، شفاف انتظام یا مشاورت پر توجہ دی؟ یا ہمیشہ صرف بیچنے کو ہی واحد حل سمجھا؟ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ اس اقتصادی غلامی کے خلاف آواز بلند کریں، اور پارلیمنٹ میں بیٹھے نمائندے بھی ان فیصلوں پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ حافظ منیر حسین احمد نے آخر میں کہا کہ جے یو آئی ایسے کسی بھی فیصلے کی مخالفت کرتی ہے جو عوام کے حقوق، قومی خودمختاری اور ریاستی وقار کے خلاف ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں