حادثات مائنز انسپکٹر کی غفلت کے نتیجے میں ہوتے ہیں لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کی جائے،سلطان خان

کوئٹہ(این این آئی)پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان، آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنر ل عبدالستار،صوبائی صدر شاہ علی بگٹی اور مرکزی اطلاعات منظور احمد بلوچ، آصف شاہ اورنثار احمد سمیت دیگر عہدیداروں نے دکی معرا ج کول کمپنی میں ہونے والے حادثے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی کی جتنی آ مدن ہوں لیکن اپنے مائنز کو قانون کے مطابق نہیں بنائے گے اس لیے کے معمولی سے خرچے کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے اور مائنز انسپکٹروں کی یہ صورت حال ہے کہ کوئی بھی مائنز انسپکٹر مائنز کے اندر انسپکیشن جاننے کے لیے تیار نہ تھے اور نہ تیار ہے اور یہی وجہ ہے کہ حادثات کی روک تھام نہیں ہورہی ہے کیونکہ ہر مائنز انسپکٹر صر ف تنخواہ لینا اور مائنز کمپنی کے ساتھ گٹھ جوڑ یہ سلسلہ ساری وجاری ہے مائنز کمپنیوں کے خلاف تو اب مائنز سیکرٹریٹ کے حکم سے ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر ہورہے مگر مائنز انسپکٹر اس ایف آئی آر سے بری الزامہ ہوتے ہے حالانکہ سب سے پہلے ایف آئی آر مائنز انسپکٹر خلاف ہونا چاہیے کیونی زردآلو میں 2024 میں ایک حادثے 12 مائنز ورکرز شہید ہوئے اور اُس مائنز میں گیسیز کے اخراج کیلئے ہوائی نہیں بنائی گئی تھی، اب اس وقت مائنز انسپکٹریٹ سے ایف آئی آر ہوناچاہیے تھا کہ ہوائی کیوں نہیں تھی اور اُس نے مائنزکو کام کرنے کی اجازت کیوں دی،اسی طرح جب پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن یہ مطالبہ کرتی ہے کہ چھ بائی سات کا راستہ ہونا چاہیے اور مائنز کے سپوٹ کیلئے کیکر کی لکٹری استعمال ہونا چاہیے مگر ایسا نہیں ہورہا ہے جس کی وجہ سے حادثا ت پیش آرہے ہے اور بعض جگہوں پر جو ڈیلے مائنز کے اندر جاتے اور ان کے رسیاں ٹوٹ جاتی ہے سوال یہ ہے کہ مائنز انسپکٹروں ڈیلے کی رسی چیک کرنے سے بھی قاصر ہوتے ہے تو یہ ڈیلے حادثات کا سبب بنتے ہیں، پھر یہ سوالات کہ مزید مائنز انسپکٹر بھرتی کئے جائے کیا وہ بھرتی ہونے کے بعد مائنز کے اندر جانے یا صرف تنخوائیں اور مائنز کمپنیوں سے فائدے لیتے رہے گے لہٰذا گورنمنٹ کو چاہیے کہ اس طر ف توجہ دیں تاکہ حادثات کی روک تھام ہوں اور غریب لاچار ورکروں جان بچانے میں تحفظ مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں