پشین(این این آئی) صوبائی اسمبلی کے رکن پارلیمانی سیکرٹری اربن پلاننگ اور چیئرمین کیو ڈی اے اسفند یار خان کاکڑ نے کہا ہے کہ تحصیل برشور کو جبری طور پر مجوزہ ضلع کاریزات میں ضم ہونے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائیگی، ضلع کاریزات کے بعد اگر حرمزئی دوسرا نیا ضلع بن جائے ہم انکی حمایت کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محمد قاسم کاکڑ کی رہائش گاہ پر تحصیل برشور توبہ کاکڑی اولسی کمیٹی کے منعقدہ اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا، جس سے اولسی کمیٹی برشور توبہ کاکڑی کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس میں صوبائی حکومت کے 22 نومبر 2022 کی نوٹیفیکیشن کی بحالی ہر صورت میں اہم قرار دیا گیا کیونکہ اس نوٹیفکیشن میں سب ڈویڑن توبہ کاکڑی اور تحصیل باغ کی منظوری بھی شامل ہے اور مستقبل میں تین تحصیلوں پر مشتمل برشور باسانی ضلع بن جائے گا جبکہ 21 نومبر 2022 کے نوٹیفکیشن میں کوئی نئی تحصیل کی منظوری شامل نہیں ہے اور نہ ہی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر شامل ہے اس نوٹیفکیشن کی بحالی کی صورت میں دہائیوں تک بر شور الگ ضلع نہیں بن پائے گا، انہوں نے کہا کہ 21 نومبر 2022 کے نوٹیفیکیشن کی دفتری کاروائی کے عمل میں صرف کاریزات کے تین تحصیل شامل تھے جبکہ تحصیل بر شور کو بغیر کسی کاروائی کے آخری وقت میں شامل کیا گیا تھا جن کے دستاویزات بطور ثبوت موجود ہے۔

