کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صوبائی ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ پولیس اور ٹریفک پولیس عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے بجائے انہیں مزید بڑھانے کا سبب بب رہی ہیں، شہریوں کے پاس تمام کاغذات مکمل اور درست ہونے کے باوجود ان کی موٹر سائیکلوں کو مختلف دفعات کے تحت بند کرنا عوام کو ریلیف دینے کے بجائے انہیں اذیت اور پریشانی میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔ پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔ یہ بات انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ شہری پہلے ہی مہنگائی، بیروزگاری اور سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں، ایسے میں موٹر سائیکل بند کر کے عدالتوں اور مختلف دفاتر کے چکر لگوانا ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنے کے برابر ہے۔ شہریوں کو اپنی موٹر سائیکل چھڑوانے کے لیے دنوں نہیں بلکہ ہفتوں تک ذلت اور خوار ہونا پڑتا ہے، جس سے ان کا وقت اور سرمایہ دونوں ضائع ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروش اور لوٹ مار کرنے والے گروہ کھلے عام آزاد گھوم رہے ہیں، مگر عام شہریوں، طلبہ اور محنت کش طبقے کو بلاوجہ جرمانوں اور مقدمات میں جکڑنا عوام دشمنی کے سوا کچھ نہیں۔ اگر پولیس کی توانائیاں اصل جرائم کے خلاف استعمال ہوتیں تو آج شہر میں منشیات کا دھندا اور چوری کی وارداتیں کم ہوتیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اصل مجرموں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کاشف حیدری نے کہا کہ کاغذات مکمل ہونے کے باوجود شہریوں کی موٹر سائیکلیں بند کر دی جاتی ہیں اور پھر انہیں عدالتوں، ایکسائز اور دیگر محکموں کے چکر کاٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ شہریوں کے ساتھ سنگین ناانصافی اور ان کے اعتماد کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ جنہیں وقت پر اپنے تعلیمی اداروں میں پہنچنا ہوتا ہے، مزدور جنہیں محنت مزدوری کے لیے جانا ہوتا ہے اور عام دکاندار جنہیں روزی کمانا ہوتی ہے، سب کو اس رویے سے شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اس طرزِ عمل نے عوام میں بے چینی کو جنم دیا ہے، ہر روز شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے اور شہری عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہیں۔ کاشف حیدری نے مزید کہا کہ یہ روش فوری طور پر تبدیل ہونی چاہیے، عوام کو سہولت دی جائے، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور شہریوں کو بار بار عدالتوں اور دفاتر کے چکر کاٹنے سے نجات دلائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو عوام اور کوئٹہ شہر کے تاجر مایوسی اور بے اعتمادی کا شکار ہوں گے، لہٰذا ضروری ہے کہ عوام اور تاجروں کو سڑکوں پر نکلنے کے لیے مجبور نہ کیا جائے۔

