بلوچستان یونیورسٹی ایمپلائز ایسوسی ایشن نے نئی پنشن پالیسی کو ملازمین کے بنیادی حقوق پر حملہ قرار دے دیا

کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان یونیورسٹی ایمپلائز ایسوسی ایشن نے آل سندھ یونیورسٹیز ایمپلائز فیڈریشن کی احتجاجی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی ایمپلائز ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس صدر شاہ علی بگٹی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں جنرل سیکریٹری گل جان کاکڑ، سینئر نائب صدر صاحب جان کرد، نائب صدر صدیر خان جتک، سینئر جوائنٹ سیکریٹری علی اکبر مینگل، جوائنٹ سیکریٹری ظفر اللہ کاکڑ، فنانس سیکریٹری میر محمد اسلم بنگلزئی، پریس سیکریٹری عید محمد محسود، آفس سیکریٹری عید محمد لہڑی، سپورٹس سیکریٹری محمد وفا لہڑی، سپورٹس سیکریٹری اوّل ٹکری محمد عباس بنگلزئی اور چیئرمین مجلس حاجی عبدالستار مینگل نے شرکت کی۔ اجلاس میں آل سندھ یونیورسٹیز ایمپلائز فیڈریشن کی احتجاجی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔بلوچستان یونیورسٹی ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئی جبری پنشن پالیسی ملازمین کے بنیادی حقوق پر حملے کے مترادف ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔بلوچستان یونیورسٹی ایمپلائز ایسوسی ایشن کے تمام عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ جبری پنشن پالیسی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لیا جائے،وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں کی طرح سندھ کے ملازمین کو بھی 2025ء کے بجٹ میں شامل ڈسپیرٹی الاو ¿نس دیا جائے،سندھ کی تمام یونیورسٹیوں میں سینڈیکیٹ اور سینٹ فورمز میں ملازمین کو نمائندگی دی جائے،سندھ کی تمام یونیورسٹیوں میں یونیفارم پالیسی بنائی جائے تاکہ ملازمین کے ساتھ یکساں رویہ اپنایا جا سکے۔بلوچستان یونیورسٹی ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی نے واضح کیا کہ آل سندھ یونیورسٹیز ایمپلائز فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے شروع کی جانے والی احتجاجی تحریک نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کے یونیورسٹی ملازمین کے مسائل کی ترجمان ہے، بلوچستان یونیورسٹی ایمپلائز ایسوسی ایشن اس جدوجہد میں سندھ کے اپنے برادر ملازمین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اگر سندھ حکومت و وفاقی حکومت نے ملازمین کے جائز مطالبات کو فوری تسلیم نہ کیا تو بلوچستان کی جامعات کے ملازمین بھی سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے۔بلوچستان یونیورسٹی ایمپلائز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری گل جان کاکڑنے کہا کہ اساتذہ، افسران اور ملازمین کی مشکلات کسی ایک صوبے تک محدود نہیں بلکہ یہ مسئلہ ملک گیر ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان اور متعلقہ صوبائی حکومتیں یونیورسٹیوں کے انتظامی و مالیاتی بحران کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں تاکہ تعلیم و تحقیق کے عمل میں مزید رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں