بچوں پر تشدد شخصیت،مستقبل تباہ کرتا ہے،ذہنی دباؤ،خوف بچوں کی نشوونما میں بڑی رکاوٹ ہیں،عصمت اللہ قریشی

کوئٹہ(این این آئی)محکمہ سوشل ویلفیئر بلوچستان اور یونیسیف کے زیر اہتمام پولیس ٹریننگ سینٹر کوئٹہ میں “چائلڈ پروٹیکشن” کے عنوان سے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں پولیس افسران، نے شرکت کی۔ورکشاپ کا مقصد بچوں کو جسمانی و ذہنی تشدد، استحصال اور ناانصافی سے بچانے کے لیے پولیس افسران اور دیگر اداروں کو جدید آگاہی فراہم کرنا تھا بچوں پر تشدد ان کی شخصیت اور مستقبل کو تباہ کرتا ہے ذہنی دباؤ اور خوف بچوں کی نشوونما میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے کہ بچوں کو ہر طرح کے ظلم سے بچائیں۔ورکشاپ میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس بچوں سے معاملات کے دوران دوستانہ اور مثبت رویہ اختیار کرے تاکہ بچے اعتماد کے ساتھ اپنی شکایات درج کرا سکیں۔ پولیس کو چاہیے کہ وہ ہر کیس کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھے اور بچوں کو فوری ریلیف فراہم کرے۔شرکاء نے کہا کہ اس طرح کی ورکشاپس نہ صرف علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ عملی سطح پر بہتری کے دروازے بھی کھولتی ہیں۔ پولیس افسران نے عزم کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے نبھائیں گے اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔اختتامی سیشن میں بچوں کے حقوق کے عالمی اصولوں اور قومی قوانین سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مستقبل میں مزید تربیتی سیشنز کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ بچوں کے حقوق کے بارے میں شعور کو عام کیا جاسکے۔سیکریٹری سماجی بہبود بلوچستان، عصمت اللہ قریشی نے یونیسف کے قیمتی تعاون کو سراہا اور پولیس ٹریننگ سینٹر کے منتظمین ڈپٹی کمانڈنٹ پی ٹی سی.. ایس ایس پی فہد خان کھو سہ ایس پی / سی ایل آئی رحمت اللہ بنگلزئی،ڈی ایس پی ٹریننگ نظر جان بادینی کے کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات نہایت اہم ہیں اور صوبے بھر میں پولیس افسران کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مزید تربیتی پروگرامز کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے یہ اقدام بین الااقومی روابط کو مضبوط بنانے، کیس مینجمنٹ کے نظام کو بہتر کرنے اور بلوچستان میں بچوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں