بدقسمتی سے جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور آفیسران کو منظور شدہ الاؤنسز اور اپ گریڈیشن سے قصدا محروم رکھا گیا ہے،ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ

کوئٹہ(این این آئی) اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان و فپواسا بلوچستان چیپٹر کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، جنرل سیکرٹری فپواسا و ایایس اے فریدخان اچکزئی، نائب صدر ڈاکٹر شبیر احمد شاہوانی، جوائنٹ سیکرٹری میڈم زہرا ملغانی، فنانس سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ باز محمد کاکڑ، پریس سیکرٹری پروفیسر رحمت اللہ اچکزئی ایگزیکٹیو ممبران ڈاکٹر مْحب اللہ کاکڑ، میڈم فرحانہ عمرمگسی، گل محمد بلوچ اور پروفیسر مسعود مندوخیل نے اپنے ایک مشترکہ سخت مذمتی بیان میں کہا کہ بدقسمتی سے جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور آفیسران کو منظور شدہ الاؤنسز اور اپ گریڈیشن سے قصدا محروم رکھا گیا ہے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ اساتذہ کرام کیلئے آپ گریڈیشن کی پالیسی جامعہ بلوچستان کے سنڈیکیٹ سمیت تمام پالیسی ساز اداروں سے 2009 میں منظور ھوا اور تب سے لیکر اب تک تمام وائس چانسلرز کے ادوار میں متواتر اساتذہ کرام کو منظور شدہ پالیسی کے تحت آپ گریڈیشن دیا جاتا رہا لیکن موجودہ وائس چانسلر نے آپ گریڈیشن روکھے رکھا اور جامعہ بلوچستان کے پالیسی ساز اداروں سے منظور شدہ اسسٹنٹ، ایسوسی ایٹ و پروفیسرز کی درجنوں آسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ بیس بیس سال سے کئی اساتذہ کرام ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگری سمیت دیگر تمام ضروریات پوری کرنے کے باوجود پروموشن سے محروم رکھے گئے ہیں اور جامعہ بلوچستان کے بیچلر ٹیچرز ہاسٹل کے رہائش پذیر اساتذہ کرام اور آفیسران سے غیرقانونی طور پر گیس کی مَد میں اس مہینے سے لاکھوں روپے غیرقانونی کٹوتیاں کی گئی حالانکہ رہائش پذیر اساتذہ کرام اور آفیسران سے ماہانہ کرایوں میں کٹوتی ہر مہینے کی جاتی رہی ہیں اور کالونی میں رہائش پذیر اساتذہ کرام اور ملازمین سے مینٹیننس کے نام سے لاکھوں روپے غیرقانونی کٹوتی کی جارہی ہے بیان میں کہا کہ پچھلے کئی سالوں سے 200 سے زائد اساتذہ کرام اور ملازمین ریٹائرڈ ھوچکے ہیں لیکن آج تک انہیں پینشن کنٹریبیوشن اور دیگر مَد میں ایک روپے بھی نہیں دیا گیا اوراب لیو انکیشمنت بھی نہیں دیا جارہا جو سراسر اساتذہ و ملازمین دشمن اقدام ہے۔۔بیان میں پرزور مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر اساتذہ کرام کی منظور شدہ آسامیوں کو مشتہر اور اپ گریڈیشن کے آرڈر جاری کیے جائیں اور گیس و مینٹیننس کی مَد میں غیرقانونی کٹوٹیوں کو منسوخ کرکے اساتذہ کرام اور آفیسران کو انکی رقم واپس کی جائیاور پالیسی ساز اداروں سے منظور شدہ تمام الاؤنسز کو کسی صورت نہ چھیڑا جائے بصورت دیگر اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن و دیگر ایسوسی ایشنز اپنے سخت احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں