کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاک سعودیہ دفاعی معاہدے میں خطے کے دیگر عرب ممالک کی شرکت کا بہت زیادہ امکان نظر آتا ہے خلیجی ممالک بھی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے میں توسیع کے خواہش مند ہیں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ ایک رات میں طے نہیں پایا بلکہ اس میں کئی ماہ کا وقت لگا ہے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی کوئی خفیہ شرائط نہیں معاہدے کا دائرہ کار دیگر ممالک تک بڑھنے سے اس کا عالمی سطح پر گہرا اثر ہوگا پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ملک ہے جسے اپنی جوہری اور عسکری صلاحیتوں کی وجہ سے مسلم ممالک میں نمایاں مقام حاصل ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادرنے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا معاہدہ اہم سنگ میل ہے جوخطے میں امن، سلامتی اور استحکام کیلئے اہم کردار ادار کرے گا ہماری جوہری اور عسکری صلاحیت کا تاثر عربوں کے دْشمن پر ہیبت طاری کرے گا چونکہ یہ دو طرفہ معاہدہ ہے اس لئے عرب ممالک بھی پاکستان کی دفاعی اور معاشی مشکلات کے وقت پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کریں گے اس دو طرفہ معاہدے سے پاکستان کی ہنر مند و غیر ہنر مند افرادی قوت مشرق وسطیٰ کو دستیاب ہو گی جس کی وجہ سے ملک میں خوشحالی آئے گی پاکستان کی افرادی قوت سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے سعودی عرب سمیت مشرق وسطٰی کے ممالک کا پاکستان پر بڑھتا ہوا انحصار اور اعتماد پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

