تحریر: محمد مظہررشید چودھری (03336963372)
دو روزہ ساتویں سالانہ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ اپنے اختتام کو پہنچی، جس کی اختتامی تقریب ساہی ایتھلیٹکس اکیڈمی کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ گریجوایٹ کالج اوکاڑہ میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ضلع بھر کے تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے نوجوان کھلاڑیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین تھے، جنہوں نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پرساہی ایتھلیٹکس اکیڈمی کے صدر اولمپیئن مظہر ساہی اور جنرل سیکرٹری نعیم شوکت نے مہمانانِ گرامی کے ہمراہ کھلاڑیوں کو میڈلز، ٹرافیاں اور اسناد سے نوازا، جس سے نوجوان کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہوئے۔تقریب میں ممبر قومی اسمبلی چودھری ریاض الحق کی نمائندگی کرنل مظہر چودھری نے کی، جبکہ کالج کے پرنسپل سردار علی حیدر ڈوگر، اساتذہ، طلبہ، انجمنِ تاجران کے نمائندے، سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ اس کے علاوہ بارین ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر عبدالرؤف بھی تقریب میں شریک تھے، جنہوں نے طلبہ اور کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزائی کے کلمات کہے۔اس موقع پر راقم الحروف(جرنلسٹ اور کالم نگار محمد مظہر رشید چودھری)کو کھیلوں کے فروغ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ سے بھی نوازا گیا، جس نے صحافت اور کھیل کے تعلق کو اجاگر کیا۔مہمانانِ گرامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کھیل نوجوان نسل کی شخصیت سازی، نظم و ضبط اور صحت مند معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں اسپورٹس سرگرمیوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ طلبہ اپنی توانائی کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں استعمال کر سکیں۔ کھیل صرف جسمانی مقابلہ نہیں بلکہ نوجوانوں کو اجتماعی ہم آہنگی، ٹیم ورک، برداشت اور خود اعتمادی کی تربیت بھی دیتا ہے۔چیمپئن شپ کے دوران 100 میٹر اور 200 میٹر دوڑ، لانگ جمپ، ہائی جمپ اور جیولین تھرو سمیت مختلف مقابلے منعقد ہوئے۔ نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی پیش کی اور شائقین کی جانب سے بھرپور داد سمیٹی۔ ایتھلیٹکس جیسے کھیل نوجوانوں کی جسمانی فٹنس کے ساتھ ساتھ ان کے ذہنی توازن اور تکنیکی مہارت کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ دوڑ اور جمپ کے مقابلوں میں تیز رفتاری، درست تکنیک اور یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے، جو طلبہ کی مجموعی نشوونما میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ساہی ایتھلیٹکس اکیڈمی کے منتظم مظہر ساہی کے مطابق اس چیمپئن شپ کا مقصد ضلع اوکاڑہ میں ایتھلیٹکس کے کھیل کو فروغ دینا اور باصلاحیت نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ بھی اس نوعیت کی سرگرمیاں تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی تاکہ قومی سطح کے نمایاں کھلاڑی تیار کیے جا سکیں۔ اس طرح کے مقابلے دیہی اور نیم شہری علاقوں کے نوجوانوں کے لیے امید کی کرنیں ہیں، جہاں اکثر مواقع کی کمی کے باعث صلاحیتیں دب جاتی ہیں۔کھیل نوجوانوں کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمی کارکردگی کو بھی بہتر بناتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جسمانی سرگرمی ذہنی یکسوئی، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔ اسی لیے تعلیمی اداروں میں کھیلوں کی اہمیت کو نصاب کے برابر سمجھنا ضروری ہے۔ والدین، اساتذہ اور ادارے مل کر اگر کھیلوں کو فروغ دیں تو طلبہ نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ کھیلوں کے عالمی سطح پر بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی نے کامیاب کھلاڑیوں اور منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور ضلعی سطح پر کھیلوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ یہ ایونٹ نہ صرف کھلاڑیوں کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ کھیل تعلیمی اداروں میں طلبہ کی شخصیت سازی، حوصلہ افزائی اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے لازمی ہیں۔اوکاڑہ کی یہ چیمپئن شپ ثابت کرتی ہے کہ نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنے اور کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے محنت اور قیادت دونوں کی ضرورت ہے۔ جب تعلیم اور کھیل ایک ساتھ چلیں، تب ہی متوازن، بااعتماد اور باصلاحیت نوجوان تیار ہوتے ہیں جو مستقبل میں قوم کی مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں۔اوکاڑہ میں منعقد ہونے والی یہ چیمپئن شپ نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کی عکاس ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ کھیل تعلیمی اداروں میں طلبہ کی شخصیت سازی، حوصلہ افزائی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے لازمی ہیں۔ ایسے مواقع نوجوانوں کو اپنی توانائی مثبت انداز میں استعمال کرنے، ٹیم ورک اور نظم و ضبط سیکھنے اور خود اعتمادی پیدا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ جب تعلیمی ادارے کھیلوں کو نصاب کا حصہ سمجھ کر باقاعدگی سے فروغ دیتے ہیں، تو طلبہ کی مجموعی نشوونما ممکن ہوتی ہے۔ کھیل اور تعلیم کے اس امتزاج سے پیدا ہونے والے نوجوان باصلاحیت، صحت مند اور معاشرتی طور پر باشعور ہوتے ہیں، جو مستقبل میں نہ صرف قومی سطح پر کھیلوں میں بلکہ معاشرتی اور پیشہ ورانہ میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر تعلیمی ادارے کے لیے کھیلوں کو فروغ دینا اور طلبہ کو مواقع فراہم کرنا ایک بنیادی ذمہ داری ہے


