نصیرآباد،پرامن احتجاج کرنے والے کسانوں پر ایف آئی آرکا اندراج قابل مذمت ہے،کسان اتحاد پاکستان

کوئٹہ(این این آئی)کسان اتحادپاکستان کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے نصیرآباد میں پرامن احتجاج کرنے والے کسانوں پر ایف آئی آر درج کرنے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایف آئی آر فوری طور پر ختم کی جائے بصورت دیگر دیگر کسان اتحاد کچلاک،نصیرآباد، لکپاس اور خضدار میں پرامن احتجاج کریں گے،کسان اتحاد پاکستان سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کو آریہ حورین،رضا محمد خلجی اوردیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ خالد حسین باٹھ نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں گندم کی کاشت سے پہلے گندم کا ریٹ مقرر کریں تاکہ زمینداروں زیادہ سے زیادہ گندم کی کاشت کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان اتحاد پاکستان نصیرآباد میں ہونے والے کسانوں کے پرامن احتجاج کے بعد کسانوں پر ایف آئی آر کی مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ 10روز کے اندر اندر ایف آئی آر ختم کی جائے بصورت دیگر کسان اتحاد پاکستان کچلاک،نصیرآباد، لکپاس اور خضدا رمیں قومی شاہراہوں پردھرنا دیکر احتجاج پر مجبور ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان ایک کمیٹی تشکیل دے جس میں کسان اتحاد کے ممبران کو بھی شامل کیا جائے کمیٹی تمام اضلاع میں جانچ پڑتا ل کرے کہ ابتک کتنے ٹیوب ویلز سولر سسٹم پر منتقل ہوچکے ہیں اور کتنے باقی رہتے ہیں اور کسانوں کو اب کتنی رقم ادا کی گئی ہے تاکہ سولر سسٹم کا مسئلہ حل ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ تب تک کسانوں کے بجلی کنکشن منقطع نہ کئے جائیں جب تک تمام ٹیوب ویلز سولرسسٹم پر منتقل نہیں ہوجاتے۔ انہوں نے کہا کہ نصیرآباد میں پانی کی قلت کی وجہ سے نقصانات ہورہے ہیں پانی نہ ہونے کی وجہ سے چاول کی فصل جل گئی ہے ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے صوبائی وزیر ایری گیشن کی ہٹ دھرمی اور نا ا ہلی کی وجہ سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر پانی کی کمی کو پورا کرکے کسانوں کو نقصان سے بچائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں کسانوں سے گندم فی من 1800روپے میں خریدی گئی اب وہی گندم بلوچستان میں 4000روپے فی من فروخت ہورہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں خالد حسین باٹھ نے کہا کہ فورسز دہشت گردوں کے خلاف تو آپریشن کر رہی ہیں اور جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں بلوچستان میں کرپشن کے خلاف بھی آپریشن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب اور بارشوں کے باعث لاکھوں ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئیں فصلیں تباہ ہوگئی ہیں جس سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے حکومت فوری طور پر کسانوں کے نقصانات کے ازالے کیلئے اقدامات اٹھائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں