کوئٹہ دھماکے میں شہید دو افراد کے لواحقین سے پیسے لینے میں ملوث ریسکیو اہلکار کوبرطرف کردیا گیا

کوئٹہ(این این آئی) میڈیکل سپرٹینڈنٹ سینڈیمن پرونشل ہسپتال کوئٹہ ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ نے کہا ہے کہ کوئٹہ دھماکے میں شہید ہونے والے دو افراد کے لواحقین سے پیسے لینے میں ریسکیو اہلکار ملوث تھا جسے برطرف کردیا گیا ہے، ریسکیو اہلکار کا ہسپتال سے کوئی تعلق نہیں تھا وہ ایدھی رضاکار تھا۔ یہ بات انہوں نے منگل کو اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ نے کہا کہ دو روز سے سوشل میڈیا میں اسپتال کی کارکردگی پر بات کی جا رہی ہے الزام اسپتال پر لگا تو اسکی تحقیقات کی گئی اور شناخت پریڈ میں خودکش حملے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے پیسے لینے میں ریسکیو اہلکار ملوث نکلا۔انہوں نے کہا کہ اہلکار نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے ایک رضاکار کی وجہ سے پوری ریسکیو سروس پر سوال اٹھ گیا ہے ایدھی سروسز کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے ایم ایس سول اسپتال نے کہا کہ میت پر پیسے لینا غیر اخلاقی حرکت تھی پشین اسٹاپ بم دھماکے کے جاں بحق افراد کے حوالے سے تمام خدمات مفت فراہم کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ سول ہسپتال میں گزشتہ دنوں جاں بحق لڑکی کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں خاتون ڈینگی بخار میں مبتلا تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں