کوئٹہ(این این آئی) چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے صوبے میں کیسکو کی جانب سے بلاجواز لوڈشیڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری بلوچستان اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے۔ یہ آئینی درخواست وائس چیئرمین بلوچستان بار کونسل ایڈوکیٹ راجب خان بلیدی کی جانب سے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیسکو و دیگر کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے چیف سیکریٹری، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری اور سیکریٹری توانائی کی جانب سے جمع کروائے گئے جوابات عدالت میں پیش کیے، تاہم عدالت نے ان جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران نے معاملے کا بوجھ محض نیپرا پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کیسکو کی رپورٹ محض اعداد و شمار کا کھیل ہے جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق، صوبے میں تقریباً 6 لاکھ 13 ہزار 522 فعال صارفین بجلی استعمال کر رہے ہیں، مگر بیشتر اضلاع میں روزانہ صرف 2 سے 3 گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ کوئٹہ شہر کے علاوہ 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جو کیسکو
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- اللہ کے واسطے اب یہ اللہ کا واسطہ ختم کیا جائے
- ناجائز رزق سے پلی ہوئی اولاد
- مکران کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے حامل،انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بہتر مواقع کی ضرورت ہے،سید تیمور شاہ
- ہنہ اوڑک میں دہشتگردی کے مسلسل واقعات صوبائی حکومت کی امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی کا واضح ثبوت ہیں، نیشنل پارٹی
- بلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ کے زیر اہتمام، یونیسیف کے تعاون سے پیرینٹنگ منتھ سیمینار وآگاہی واک کا انعقادکیاگیا
- پارٹی نے اپنے قیام سے لیکر آج تک ہزارہ قوم میں سیاسی و جمہوری کلچر کے فروغ کیلئے کام کیا ہے،احمد علی کوہزاد
- 9 بے گناہ افراد کی لاشوں کی برآمدگی امن و امان کی سنگین ابتری اور شہریوں کے تحفظ میں ریاستی ناکامی کا انتہائی افسوسناک مظہر ہے،سینیٹر مولانا عبدالواسع
- بلوچستان کا رقبہ وسیع عریض ہونے کی وجہ سے دہشتگردی کی کاروائیوں میں نقصانات ہوتے ہیں،گورنر
- دہشت گردی کیخلاف جنگ میں شہداء کی عظیم قربانیاں قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ میر علی حسن زہری
- بزدل ہشت گرد عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

