گوادر (این این آئی) چین کا گوادر بندرگاہ پر کنٹرول ہے ان کی ادھر اچھی خاصی سرمایہ کاری لگی ہے پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ کے مقابلے میں وہ چین کو فوقیت دے گا لیکن فناشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان امریکہ کو گوادر بندرگاہ سے چند کلومیٹر ہی دور ساحلی علاقے Pasni تک رسائی دے گا رپورٹ کے مطابق امریکہ یہاں بیس بنائے گا جو اندرون ملک سے معدنیات اکٹھی کر کے اس بندرگاہ تک پہنچائی جائیں گی لیکن ادھر کوئی فوجی انسٹالمنٹ نہیں ہو گی لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ کی Activities کو ادھر چیک کرنے کی ہمت کس میں ہو گی اگر بیس بنتی ہے تو انہوں نے ویسے ہی بیس کے ارد گرد کے علاقے کو مکمل سیکیورٹی کے اندر Seal کر دینا ہے اندر وہ جو مرضی جاسوسی آلات نصب کریں نہ کریں کون پوچھنے والا ہے لیکن پاکستان نے سرکاری طور پر امریکہ کو Pasni تک رسائی دینے کی تردید کی ہے لیکن معدنیات کے حوالے سے امریکہ سے مذاکرات کی ضرور تصدیق کی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب امریکی کمپنی یا کمپنیاں معدنیات نکالیں گی تو ان کو بندرگاہ تک کیسے پہنچایا جائے گا ان کی سیکیورٹی کا کیا طریقہ کار ہو گا معدنیات ڈائریکٹ بحری جہازوں میں منتقل کی جائے گی یا پھر اس کیلئے امریکہ کو بیس بنا کر دی جائے گی جہاں معدنیات کا اسٹاک جمع کیا جائے گا جہاں سے جہازوں میں شفٹ کیا جائے گا
اگر بیس بنائی جاتی ہے تو امریکہ اس کے اردگرد کے علاقے کو سیکیورٹی میں ٹائٹ کر دے گا اونچی باڑ اور جدید سیکیورٹی آلات لگائے جائیں گے معاہدے کے مطابق کوئی بھی فوجی تنصیبات نہیں لگائی جائیں گی لیکن اس اہم ترین جگہ جو چین کے کنٹرول کردہ گوادر کے انتہائی قریب ہے کو کیا امریکہ ایک انتہائی بہترین موقع خیال کرتے ہوئے جاسوسی نہیں کرے گا اگر جدید ترین جاسوسی آلات نصب کئے جاتے ہیں کون چیک کرے گا یا کسی کی اتنی ہمت ہو گی کہ وہ امریکی بیس کے اندر جانچ پڑتال کر سکے
اس نازک دور میں جہاں اسرائیل آئے روز ایران کو دھمکیاں لگا رہا ہے اس بیس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کل کی خبر ہے نیتن یاہو امریکہ کو بھی ایران کے خلاف کاروائی کیلئے کھینچ رہا ہے یہ کہتے ہوئے کہ ایرانی میزائل نیویارک تک ہٹ کریں گے اگر ایران کو بروقت نہ روکا گیا۔

