مشاورتی/سپریم کونسل کے اعلان کردہ غیر آئینی کنونشن کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

کوئٹہ(این این آئی) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے کہا ہے کہ مشاورتی/سپریم کونسل کے اعلان کردہ غیر آئینی کنونشن کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں ایک الیکٹڈ کابینہ کی عدم موجودگی میں مشاورتی/سپریم کونسل کی جانب سے پالیسی بیان، پریس کانفرنس، کنوینشن یا اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مشاورتی/سپریم کونسل جمہوری طرز پر نئی کابینہ کی تشکیل کیلئے ڈاکٹر کمیونٹی کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی بجائے کنوینشن کے نام پر ڈرامہ رچا کر تنظیم پر قبضہ برقرار رکھنا چاہتی ہے کابینہ تحلیل ہونے کے بعد نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے موبلائزیشن کرنے کے بجائے، ان غیر آئینی سرگرمیوں کے ذریعے تنظیم کو مزید تقسیم کیا جا رہا ہے۔بیان میں کہا گیاہے کہ محکمہ صحت اور صوبائی حکومت کے جانب سے ڈاکٹروں کے ساتھ اختیار کیے گئے انتہائی نامناسب رویے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔بیان میں کہا گیاہے کہ انتخابات سے پہلے اور الیکٹڈ کابینہ کی غیر موجودگی میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے نام سے ہونے والی ہر قسم کی سرگرمی غیر آئینی قرار دی جائے گی۔بیان میں کہا گیاہے کہ تنظیم کو موجودہ آئینی بحران سے نکالنے کے بجائے، مشاورتی/سپریم کونسل اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے تنظیم کو مزید کمزور کرنے پر تْلی ہوئی ہے۔بیان میں کہا گیاہے کہ محکمہ صحت کی میجر اسٹیک ہولڈر تنظیم ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کا واحد راستہ صاف شفاف اور غیر جانبدار انتخابات ہیں تمام ممبران سے اپیل ہے کہ وہ ان غیر آئینی سرگرمیوں کی مکمل طور پر حوصلہ شکنی کریں اور ایک الیکٹڈ کابینہ کے قیام تک کسی بھی غیر آئینی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں