ریکوڈک منصوبے میں بھرتیوں کے انٹرویو منسوخ کرنے سے نوجوان مایوس ہیں، عوامی حلقے

دالبندین (این این آئی) ریکوڈک,سونے کی سرزمین کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی،سونے کی سرزمین جہاں دنیا کی مشہور و معروف کانیں ریکوڈک، سیندک اور سیاہ ڈِک واقع ہیں، مگر افسوس کہ اسی زرخیز دھرتی کے بیٹے آج روزگار کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں۔ضلع چاغی کے مختلف علاقوں سے درجنوں نوجوان غربت اور بے روزگاری سے تنگ آکر ریکوڈک مائننگ پروجیکٹ میں مزدوری کی امید لے کر نکلے۔ کسی نے قرض لیا، تو کسی نے مشکل سے رقم لیکر تاکہ کوئٹہ تک کا کرایہ ادا کرسکے۔ یہ نوجوان دور دراز علاقوں سے دن بھر سفر کرکے کوئٹہ کے ہوٹلوں میں قیام کے بعد صبح سویرے انٹرویو کے لیے پہنچے مگر افسوس کے ساتھ انہیں یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ ہم آج آپ سے انٹرویو نہیں لے رہے,ریکوڈک پروجیکٹ جو کہ ضلع چاغی میں واقع ہے، اس کا مرکزی دفتر کراچی میں قائم ہے جبکہ بھرتیوں کے انٹرویوز کوئٹہ کے مہنگے ہوٹل سرینا میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس عمل نے چاغی کے نوجوانوں میں شدید مایوسی پیدا کردی ہے۔علاقے کے عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں نے ریکوڈک مائننگ کمپنی کے اس رویے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ,چاغی کے بے روزگار نوجوانوں کو انٹرویو کے لیے بلانا اور پھر انٹرویو لیے بغیر واپس بھیج دینا ان کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ جب ریکوڈک پروجیکٹ ضلع چاغی کی سرزمین پر واقع ہے، تو بھرتیوں اور انٹرویوز کے تمام مراحل بھی یہیں ہونے چاہئیں۔عوامی نمائندوں، صوبائی حکومت اور کمپنی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ چاغی کے مقامی نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار دیا جائے اور مستقبل میں اس طرح کی ناانصافی اور استحصال کا سلسلہ ختم کیا جائے، تاکہ سونے کی اس سرزمین کے بیٹے خود بھی روزی کما سکیں، نہ کہ صرف زمین کے نیچے موجود سونا دوسروں کے کام آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں