کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان ووشو ایسوسی ایشن کی ٹیم BWUA کے خزانچی فدا حسین کاظمی کی سربراہی میں چیمپئن شپ میں شرکت کی جبکہ کوچ سید آمین اور آفیشل قیصر خان تھے. چیمپئن شپ میں سنسنی خیز مقابلوں کے بعد بلوچستان نے پاکستان واپڈا، پاکستان پولیس، ریڈ ڈریگن، پنجاب،سندھ،کے۔پی۔کے آذاد کشمیر، اور ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے کھلاڈیوں کو ہرا کر چیمپئن ٹرافی اپنے نام کر لی. جو بلوچستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔اسحاق علی چیئرمین بلوچستان ووشو اسوسییشن کی لازوال خدمات ناقابل فراموش ہیں جنہوں نے ایک طرف مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ بھی کیا اور بڑے ہی دیدہ دلیری کے ساتھ کھلاڑیوں کی تربیت بھی جاری رکھی جو قابل تعریف ہیں۔گرینڈ ماسٹر مبارک علی شان سکندر خان۔کلیم اللہ خان کاکڑ۔ فدا کاظمی۔ نجیب پائند۔ قیصر خان۔ تمام کوچز مختلف کلبوں کے انچارج ایسوسی ایشن کے عہدے داران ممبرز ان سب کی کوششوں سے بلوچستان ووشو ایسوسییشن کو تاریخی اور شاندار کامیابی حاصل ہوئی۔ بلوچستان کی 78 سالہ تاریخ میں کسی بھی ایسوسی ایشن نے اتنی بڑی اور شاندار کامیابی کبھی بھی حاصل نہیں کی۔ یہ اللہ تعالی نے اعزاز بلوچستان حقیقی ووشو اسوسییشن کو عطا کیا۔پچھلے دو سالوں سے ووشو کھیل کو تباہ کرنے کے لیے اور ہمیں ہر طریقے سے پیچھے ہٹانے میں کچھ ووشو کھیل کے مخالفین نے پس پردہ اور سامنے ہو کر ہمیں ہٹانے کی بھرپور کوشش کی۔اگر وہ ان سازشوں میں کامیاب ہو جاتے تو اس صوبے کو اتنا بڑا اعزاز کبھی نہ ملتا۔جو کہ جس ایسوسییشن کے ساتھ فیڈریشن کا ہاتھ ہوتا ہے یا فیڈریشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہوتی ہے وہی ایسوسییشن نیشنل انٹرنیشنل لیول پہ اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔علم کی کمی کی وجہ سے حسد یا پھر تحصب کرنے والوں کو ان باتوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اج فیڈریشن ہمیں دعوت نہ دیتی تو اتنا بڑا اعزاز ہم حاصل کر سکتے تھے یہ میرا سوال ذمہ دار لوگوں کے لیے ہے؟یہ اللہ تعالی کی خاص مہربانی ہم پر رہی اور ہم کیونکہ سچے تھے مخلص با ادب رہے ہماری ایسوسییشن ہر حوالے سے تمام قانونی تقاضے پورے کر کے وجود میں لائی گئی تھی اسی وجہ سے ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکا۔مگر افسوس چند مخالفین نیایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر وہ ناکام رہے اور انشاء اللہ اگے بھی انہیں ناکامی دیکھنی پڑے گی۔میں وزیراعلی بلوچستان۔ صوبائی وزیر کھیل۔ سیکرٹری سپورٹس امور نوجوانان۔ ڈائریکٹر جنرل سپورٹس کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں اتنی شاندار کامیابی جو بلوچستان کی 78 سالہ تاریخ میں کسی بھی ایسوسییشن نے اج تک حاصل نہیں کی جو 15 وومنز چیمپین شپ جس میں پاکستان بھر سے سینکڑوں کھلاڑیوں نے حصہ لیا واپڈا۔ پولیس۔ پنجاب۔ کے پی کے۔ سندھ۔ کشمیر۔ اور دیگر اداروں کی ووشو کنگفو وومنز کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔بلوچستان کی وومنز ووشو کھلاڑیوں نے ان سب کو شکست دے کر پاکستان چیمپین بننے اور ونر ٹرافی حاصل کرنے کا اعزاز صوبہ بلوچستان کے نام کر دیاجو ایک تاریخی اعزاز ہے میری اپیل ہے گورنمنٹ سطح پر ہماری ان بچیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے جس سے گورنمنٹ سطح پر ایک اچھا اور مثبت پیغام جائے گا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- پنجگور کے نوجوان شہاب نے رضاکارانہ طور پر سرینڈر کر دیا
- عالمی ہنگر انڈیکس میں پاکستان کی صورتِ حال تشویش ناک، مؤثر حکومتی اقدامات سے غذائی تحفظ بہتر بنایا جا سکتا ہے، سینیٹر محمد عبدالقادر
- عوام کو ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے،مہراللہ بادینی
- مراکز صحت میں عملے کی حاضری، ادویات دستیابی،عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوئٹہ
- پیپلز پارٹی عوام کی نمائندہ جماعت،مسائل حل کرنے کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے، میر ریاض احمد شاہوانی
- کوئٹہ میں موسم سرد ہونے کیساتھ ہی گیس پریشر میں کمی،بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے،لالہ یوسف خلجی
- خواتین کے تحفظ،حقوق کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، میر ضیاء لانگو
- بلوچستان پورے پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،گورنر بلوچستان
- خاران: چوری کی کوشش کے دوران فائرنگ سے پولیس کانسٹیبل خان غلام رسول جاں بحق، ملزمان فرار، پولیس کی تفتیش جاری
- امریکی اسکول میں 16 سالہ لڑکے کی فائرنگ، 3 معصوم بچے اور استاد ہلاک

