خضدار (دانش مینگل) نادرہ آفس خضدار میں عوام کو درپیش مسائل میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے دور دراز علاقوں سے آنے والے اور مقامی شہری ہفتوں بلکہ بعض اوقات مہینوں تک اپنے شناختی کارڈ کے معاملات حل کرانے کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ، زرائع کے مطابق، نئے افسران کی تعیناتی کے بعد عوامی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ سابقہ افسران عوام دوست اور خدمت گزار تھے جن کے دور میں نادرہ آفس سے عوامی شکایات تقریباً ختم ہو چکی تھیں، تاہم نئے انتظامی عملے کے آنے کے بعد حالات بگڑنے لگے ہیں۔
> خاص طور پر خواتین سیکشن میں صورتحال نہایت ابتر بتائی جا رہی ہے۔ شہریوں کے مطابق، نادرہ آفس میں خواتین کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جا رہا ہے، اور ان کی داد رسی کے لیے کوئی ذمہ دار موجود نہیں خواتین کو طویل قطاروں میں گھنٹوں انتظار کروایا جاتا ہے، اور بعض اوقات عملہ ان سے بدتمیزی سے پیش آتا ہے، جیسے وہ عام شہری نہیں بلکہ کسی سزا کے مستحق ہوں۔
> عوامی حلقوں نے کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ اور ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے تاکہ نادرہ آفس کی ہٹ دھرمی اور عملے کے غیر ذمہ دارانہ رویے کا سدباب کیا جا سکے اور نادرہ خضدار کے نظام کو شفاف اور عوام دوست بنایا جائے تاکہ لوگ اپنے شناختی مسائل کے حل کے لیے مزید پریشانیوں کا شکار نہ ہوں۔

