لسبیلہ(بیوروچیف حفیظ دانش)گزشتہ روز کوسٹ گارڈ کی چیکنگ کے دوران ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جب ایک شدید بیمار بچے کو اہل خانہ کراچی علاج کے لیے لے جا رہے تھے، مگر کوسٹ گارڈ اہلکاروں نے اہل خانہ کی منت سماجت کے باوجود گاڑی کو نہیں جانے دیا، جس کے باعث بچہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ یہ واقعہ بلوچستان میں قانون کے دوہرے معیار پر سوالیہ نشان ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ عام شہریوں، مریضوں اور مسافروں کو تو سختی سے روکا جاتا ہے، لیکن دوسری جانب اسمگل شدہ چھالیاں، منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیاء روزانہ کی بنیاد پر ضلع لسبیلہ اور حب سے کراچی تک پہنچتی ہیں — آخر وہ کس کی سرپرستی میں جاتی ہیں؟شہریوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کوسٹ گارڈ آئے روز بلاوجہ عام لوگوں کو تنگ کرتے ہیں، یہاں تک کہ گھریلو استعمال کی اشیاء کو بھی “ایرانی” قرار دے کر روک دیا جاتا ہے۔ اگر ایرانی اشیاء پر پابندی ہے تو پھر ایرانی ڈیزل اور پیٹرول کھلے عام کیوں دستیاب ہے؟لسبیلہ اور حب کے عوامی حلقوں نے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر نواب جام کمال خان عالیانی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری انکوائری کی جائے اور اوتھل چیک پوسٹ کو ختم کیا جائے جو بلوچستان کی عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- منجھو شوری پولیس نے قتل کے دو مفرور اشتہاری ملزمان گرفتار کر لیے
- جو سیاست میں مشکلات برداشت نہیں کر سکتا وہ کوئی اور کام کرلے، صدر زرداری
- ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: بھارت کا معلوم نہیں، ہم فائنل کھیلیں گے، شاداب خان
- ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: آسٹریلیا اور آئرلینڈ ایونٹ سے باہر، زمبابوے سپر ایٹ میں پہنچ گیا
- سابق کپتانوں کا حکومت پاکستان سے عمران خان کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ
- سلمان خان کے والد اسپتال میں داخل، سب بہن بھائی پہنچ گئے
- ’گاڈ فادر‘ کے اداکار رابرٹ ڈیوول انتقال کرگئے
- جیل سے رہائی کے بعد راجپال یادیو کا پہلا بیان سامنے آگیا
- آسٹریا کے سرمایہ کار، تاجر پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار
- سال کا پہلا سورج گرہن آج ہوگا، کیا پاکستان میں دیکھا جاسکے گا؟

