کوئٹہ(این این آئی)اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کراچی شاہراہ پر اوتھل کے مقام پر کوسٹ گارڈ کی چیک پوسٹ پر چیکنگ کے نام پر مسافر بسوں کو کئی گھنٹوں تک روکے رکھا گیا۔ اسی دوران ایک ننھی، پھول جیسی معصوم بچی نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔
اب یہ موت قتل کے زمرے میں آتی ہے یا بے بسی کے، اس کا فیصلہ شاید میں نہیں دے سکوں، مگر ایک بات طے ہے ۔ اس ناحق خون میں بلوچستان اسمبلی کے 65 ممبران برابر کے شریک ہیں۔
بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتیں بھی اس ظلم میں شریکِ جرم ہیں۔ یہ کوئی آج کا واقعہ نہیں، بلکہ دہائیوں سے جاری ظلم کی ایک تازہ مثال ہے۔ ہمارے منتخب نمائندے اور سیاسی رہنما برسوں سے ایسے مظالم پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
اگر کبھی کوئی ایم پی اے یا سیاسی رہنما اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، تو اسے ایف آئی آر اور دباؤ کے ذریعے خاموش کر دیا جاتا ہے، جبکہ باقی سب آلہ کار بن کر اس بربریت کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔
یہ رویہ خود گواہی دیتا ہے کہ بلوچستان کے عوام پر ہونے والے ظلم و ناانصافی میں ہمارے سیاست دان اور اسمبلی ممبران بھی برابر کے شریک ہیں۔ اس ننھی بچی کی موت دراصل ہمارے اجتماعی ضمیر کی موت ہے۔

