پنجگور( این این آئی) ہیومن رائٹس کونسل آف بلوچستان پنجگور کے میڈیا کوآرڈینیٹر اور پبلک ویلفیئر ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن بلوچستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل چاکر صدیق بلوچ نے اے ایس آئی عبیداللہ بلوچ کے کمسن بیٹے کی وفات پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ نجی اسکولوں کی وینیں معمول بنا چکی ہیں کہ بچوں کو چھتوں پر بٹھا کر ان کی زندگیوں سے کھیلتی ہیں۔ یہ عمل صرف لاپرواہی نہیں بلکہ ایک سنگین مجرمانہ غفلت ہے۔
انہوں نے والدین کو بھی ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ وہ روزانہ اپنی آنکھوں سے بچوں کو وین کی چھت پر بیٹھے دیکھتے ہیں مگر خاموش رہتے ہیں، جس سے یہ خطرناک رجحان مسلسل جاری ہے۔
چاکر صدیق بلوچ نے بتایا کہ دو سال قبل انہوں نے سوشل میڈیا پر اس مسئلے کے خلاف آواز اٹھائی تھی، مگر وین ڈرائیورز نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ حالیہ دنوں میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بچوں کو چھت پر بٹھانے پر پابندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا، لیکن بدقسمتی سے یہ اقدام صرف فوٹو سیشن تک محدود رہا۔
انہوں نے کہا کہ جاں بحق بچہ ایک نجی اسکول کا طالب علم تھا جو وین کی چھت سے گر کر شدید زخمی ہوا، بعد ازاں کراچی منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔
آخر میں چاکر صدیق بلوچ نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ اسکول وینوں کی سخت نگرانی کی جائے اور انسانی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

