پی ایم اے بلوچستان کے انتخابات بارے الیکشن کمیشن کے اعلان کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے،ڈاکٹرآفتاب کاکڑ

کوئٹہ(این این آئی) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدرڈاکٹر آفتاب کاکڑ نے کہا ہے کہ پی ایم اے بلوچستان کے صوبائی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کے اعلان کی کوئی آئینی یا قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے،جسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، پی ایم اے بلوچستان کے صوبائی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کااعلان غیرآئینی اورغیرقانونی ہے جاری کردہ بیان فرد واحد کاہے جوپی ایم اے بلوچستان کے آئین کے مطابق قانونی صدر نہیں ہیں اور ایسوسی ایشن کی جانب سے کسی بھی قسم کا اعلان کرنے کے مجاز نہیں۔ایک بیان میں ڈاکٹر آفتاب کاکڑ نے کہا کہ ڈاکٹر نور محمد قاضی2021 میں مدت 2023 تا 2025 کے لیے صدر کے طور پرمنتخب ہوئے تھے اور دسمبر 2023 میں انتخابات کرانے کے ذمہ دار تھے تاہم انہوں نے عہدہ سنبھالنے سے انکار کیا اور موجودہ کابینہ سیدرخواست کی کہ وہ اپنی مدت کے دوران ذمہ داریاں جاری رکھے، کیونکہ وہ بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن (BHCC) خدمات انجام دینے کو ترجیح دے رہے تھے اس سے قبل وہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز بلوچستان کے عہدے پر بھی فائز رہنے کو ترجیح دے چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2019کی دفعہ 10(5) کے تحت CEO اپنے پورے وقت اور توجہ کو کمیشن کے امور کے لیے وقف کرنے کے پابند ہیں یہ شق واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ CEO کا عہدہ ایک مکمل وقتی اور وقف کردہ حیثیت رکھتا ہے، اس لیے پی ایم اے میں کسی بھی حیثیت میں بیک وقت کام کرنا قانونی اور اخلاقی طور پر نامناسب تھا۔انہوں نے کہا کہ چونکہ پی ایم اے ڈاکٹروں کی ایک نمائندہ تنظیم اوربلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن صحت کے اداروں (ہسپتالوں) کی نگران ریگولیٹری اتھارٹی میں دوہری ذمہ داریاں مفادات کیواضع تصادم (Conflict of interest)کو جنم دیتی ہیں، جو ادارہ جاتی شفافیت اور عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مزید براں بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کے ایکٹ کی دفعہ 10(3) کے مطابق CEO پر لازم ہے کہ وہ کسی بھی سابقہ عہدے یا ادارے سے جہاں ان کا مفاد یا وابستگی ہو، تحریری استعفیٰ یا ریلیونگ لیٹر پیش کریں۔ لہٰذا یہ شرط بھی اس بات کو مزید واضح کرتی ہے کہ ان کی جانب سے کی نمائندگی یا بیان جاری کرنا غیر قانونی ہے،پی ایم اے کے آئین کے مطابق انتخابات سے متعلق کوئی بھی فیصلہ صرف جنرل باڈی اجلاس میں باقاعدہ پیشگی اطلاع کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔ نہ ایسا کوئی اجلاس منعقد ہوا ہے اور نہ ہی موجودہ کابینہ کی قانونی حیثیت میں کوئی ابہام پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ بعض سینئر ساتھیوں نے ذاتی یا سیاسی مفادات کے تحت اس غیر مجاز اجلاس میں شرکت کیموجودہ آئینی پی ایم اے کابینہ نے پہلے ہی پریس کانفرنس کے ذریعے انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ کوئٹہ زون کے انتخابات کا پہلا مرحلہ 40 دنوں میں مکمل کیا جائے گا جس کے بعد صوبائی انتخابات پی ایم اے کے آئین کے مطابق منعقد ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ کابینہ ہمیشہ ڈاکٹروں کے وقار اور مریضوں کی فلاح کے لیے کام کرتی رہی ہے، مکمل شفافیت کے ساتھ ریکارڈ برقرار رکھتی ہے جسے بروقت انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد ذمہ داریاں باقاعدہ منتقلی کے دوران شائع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم اے بلوچستان کے موجودہ کابینہ نے ہمیشہ صحت کے شعبے میں مثبت اصلاحات اور محکمانہ اقدامات کی حمایت کی ہے، بغیر کسی ذاتی مفاد یا غرض کے۔ بعض افراد کے ذاتی مفادات اس اصولی موقف سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں،انتظامی کارکردگی کی بنا پر عہدوں سے ہٹایا گیا ہے نے اس غیر قانونی عمل کو توقیت دی جو انتہائی افسوسناک اور ڈاکٹر کمیونٹی کے اتحاد کے لیے نقصان دہ عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایم اے بلوچستان ایسوسی ایشن کے نام کے ذاتی یا بد نیتی پر مبنی استعمال، بلیک میلنگ یا ریگولیٹری و احتسابی اداروں پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کی سخت مذمت کرتی ہے، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اپنے معززڈاکٹر ساتھیوں یا متعلقہ حکام کے خلاف توہین آمیز زبان کے استعمال کی بھی شدید مذمت کرتی ہے اور اسے غیر اخلاقی اور غیر پیشہ ورانہ عمل قرار دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایم اے بلوچستان کسی بھی ایسے شخص یا گروہ کے خلاف جو غیر قانونی، غیر اخلاقی یا بدنامی پر مبنی اقدامات میں ملوث ہو، قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے،بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن دفتر میں منعقد ہونے والے غیر قانونی اجلاس میں شریک ارکان کی رکنیت آئندہ فیصلے تک معطل کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم اے بلوچستان،چیئرمین بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن سے اپیل کرتی ہے کہ وہ کمیشن کے دفتر کے ناجائز استعمال کا نوٹس لیں اور اس طرح کے اقدامات کی آئندہ روک تھام کو یقینی بنائیں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بلوچستان اپنے آئین، اصولوں اور طبی پیشے کے وقار کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، اور شفاف نمائندگی کے ذریعے پی ایم اے اور صحت کے ریگولیٹری ڈھانچے کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں