دین اسلام عدل، مساوات اور ہمدردی کی سب سے مضبوط بنیاد رکھتا ہے، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

اسلام آباد( رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (NCRC) کے زیرِ اہتمام ”پاکستان میں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے بچوں کی صورتِ حال“ کے عنوان سے منعقدہ رپورٹ کی تقریبِ رونمائی سے ایک پراثر اور اہم خطاب کیا۔ اس تقریب میں ارکانِ پارلیمنٹ، سول سوسائٹی کے نمائندے، اقلیتی برادریوں کے اراکین اور انسانی حقوق کے کارکن شریک ہوئے جنہوں نے پاکستان میں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے بچوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے NCRC کو اس انتہائی اہم اور طویل عرصے سے نظرانداز کیے گئے مسئلے کو سنجیدگی، گہرائی اور ہمدردی کے ساتھ اٹھانے پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مطالعہ صرف ایک رپورٹ نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جو ان بچوں کی حقیقتوں، امیدوں اور خاموش جدوجہد کو ظاہر کرتا ہے جو پاکستان کے خوبصورت مذہبی تنوع کا حصہ ہیں۔انہوں نے شمولیت کی اخلاقی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچے خواہ کسی بھی مذہب، رنگ یا زبان سے تعلق رکھتے ہوں وہ صرف اس قوم کا مستقبل نہیں بلکہ اس کی روح ہیں۔ جب کسی ایک بچے کو اس کے مذہب، جنس یا شناخت کی بنیاد پر پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے تو ہمارے اجتماعی ضمیر کو بیدار ہونا چاہئے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے یاد دلایا کہ اسلام اور پاکستان کا آئین تمام شہریوں کے لیے مساوات اور تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا دین اسلام عدل، مساوات اور ہمدردی کی سب سے مضبوط بنیاد رکھتا ہے۔ قرآنِ مجید میں فرمایا گیا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ؐ اقلیتوں کے ساتھ عدل و انصاف اور رحم دلی کے لیے جانے جاتے تھے۔آئینِ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 20، 21، 22، 26 اور 27 واضح طور پر حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔ مذہب کے اظہار کی آزادی، تعلیم میں امتیاز سے پاک حق اور عوامی زندگی میں مساوی مواقع کا حق۔ یہ محض علامتی دفعات نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داریاں ہیں۔انہوں نے رپورٹ کے نتائج کو”آنکھیں کھول دینے والے“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں سماجی علیحدگی، نصابی کتب میں تعصب، اعلیٰ تعلیم تک محدود رسائی اور شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خدشات کو ظاہر کیا گیا ہے۔ انہوں نے اقلیتی لڑکیوں کی جبری تبدیلیِ مذہب اور کم عمری کی شادیوں کے مسائل کوانسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات دونوں کی سنگین اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی قرار دیا۔اپنے قانون ساز عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہابطور چیئرپرسن سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ پارلیمنٹ ہر بچے کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، بغیر کسی امتیاز کے۔انہوں نے بتایا کہ کمیٹی انسانی حقوق اور بین المذاہب ہم آہنگی کے موضوعات کو قومی نصاب میں شامل کرنے، بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے، اور جبری تبدیلیِ مذہب و کم عمری کی شادیوں کے قوانین پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ کمیٹی اس رپورٹ کے نتائج پر باضابطہ غور کرے گی۔ہم نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ، وزارتِ انسانی حقوق اور نیشنل کریکولم کونسل کے ساتھ عوامی سماعتوں کا آغاز کریں گے تاکہ ان سفارشات کو عملی پالیسی اصلاحات میں ڈھالا جا سکے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا جہاں ہر بچہ چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو یکساں ترقی کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا پاکستان سوچیں جہاں ایک مسیحی بچہ جج بننے کا خواب دیکھ سکے، ایک ہندو لڑکی سائنس پڑھ سکے بغیر کسی مذاق کا نشانہ بنے، ایک سکھ لڑکا کسی بھی سرکاری دفتر میں اعتماد سے داخل ہو سکے اور ایک مسلمان بچہ ان سب کو اجنبی نہیں بلکہ اپنے ہم وطن کے طور پر جانے۔اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ یاد رکھیں جب بھی کسی بچے کو تعصب کی بنیاد پر تعلیم سے محروم کیا جاتا ہے ہم پاکستان کے وعدے کا ایک حصہ کھو دیتے ہیں۔ جب بھی کسی لڑکی کو جبراً تبدیلیِ مذہب یا شادی پر مجبور کیا جاتا ہے ہم اپنی انسانیت کا ایک حصہ کھو دیتے ہیں اور جب بھی ہم امتیاز سے منہ موڑتے ہیں ہم اسلام کے پیغام، قائداعظم کے وژن، اور اپنے آئین کی روح سے منہ موڑتے ہیں۔انہوں نے اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہر وہ بچہ جو آج یہ سن رہا ہے، جان لے: تم نظر آ رہے ہو، تم قیمتی ہو، اور تم اس ملک کا حصہ ہو۔تقریب کے اختتام پر پارلیمنٹ، نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ اور سول سوسائٹی نے ایک بار پھر عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایک منصف، شمولیتی اور ہمدرد معاشرہ تشکیل دینے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے جہاں ہر بچے کے حقوق اور وقار کا احترام کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں