خصوصی رپورٹ:آغا سفیرحسین کاظمی
آج کی دنیا جس تیزی سے سیاسی، عسکری اور قدرتی بحرانوں کی طرف بڑھ رہی ہے، وہ اس حقیقت کو مزید واضح کر رہی ہے کہ ریاستی اور شہری منصوبہ بندی میں صرف ترقیاتی پہلو کافی نہیں رہے بلکہ“تحفظ اور بقا”کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہونا چاہیے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، یورپ کی جنگی صورتحال، اور مختلف خطوں میں بڑھتے ہوئے تنازعات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ اب شہری آبادیوں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے محفوظ رکھنے کے لیے جدید اور مربوط نظام ناگزیر ہو چکا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک اس حقیقت کو پہلے ہی سمجھ چکے ہیں۔ اسرائیل میں ہر نئی رہائشی عمارت کے ساتھ لازمی طور پر محفوظ شیلٹرز تعمیر کیے جاتے ہیں۔ ایران نے طویل جنگی تجربات کے بعد اپنے شہری ڈھانچے میں زیرِ زمین پناہ گاہوں کو ایک مستقل حصہ بنا دیا ہے۔ یورپ کے کئی ممالک، خاص طور پر سرد جنگ کے بعد، بڑے پیمانے پر بنکرز اور ایمرجنسی شیلٹرز کا نیٹ ورک برقرار رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ایٹمی، میزائل یا فضائی حملے کی صورت میں شہری آبادی کو محفوظ رکھا جا سکے۔
اس کے برعکس ہمارے خطے میں صورتحال خاصی مختلف ہے۔ ہمارے ہاں شہری ترقی کا تصور زیادہ تر ظاہری تعمیرات، تجارتی مفادات اور فوری مالی فوائد تک محدود رہا ہے۔ بڑے شہروں میں پارکنگ کے لیے مختص جگہیں بھی تجارتی دکانوں میں تبدیل ہو جانا ایک عام رجحان ہے۔ عمارتوں کی منصوبہ بندی میں ہنگامی راستوں، محفوظ مقامات اور ایمرجنسی سہولیات کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ نتیجتاً کسی بھی قدرتی آفت، حادثے یا ہنگامی صورتحال میں شہری آبادی بے یارو مددگار محسوس کرتی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے شہری منصوبہ بندی کو طویل المدتی تحفظ کے بجائے فوری فائدے کے نقط نظر سے اپنایا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زلزلہ، سیلاب، آگ یا کسی بھی ممکنہ عسکری خطرے کی صورت میں شہری نظام ناکافی ثابت ہوتا ہے۔ جدید دور میں جہاں ڈرون، میزائل اور فضائی حملوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں، وہاں شہری مراکز کو محفوظ بنانے کے لیے زیرِ زمین پناہ گاہیں اب کوئی اختیاری سہولت نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہیں۔
چنانچہ ضروری ہے کہ جب بھی کسی تعمیراتی منصوبے کا نقشہ متعلقہ بلڈنگ کنٹرول ادارے سے منظور کیا جائے تو اس میں ایک لازمی شق شامل کی جائے۔ اس شق کے تحت ہر عمارت، خواہ وہ رہائشی ہو، تجارتی ہو یا سرکاری، میں ایک واضح طور پر نشان زد“زیرِ زمین محفوظ کمرہ”یا ایمرجنسی شیلٹر شامل ہونا چاہیے۔ اس جگہ کا انتخاب، اس کی ساخت، اس کی رسائی اور اس کی حفاظت کے معیار کا باقاعدہ تکنیکی جائزہ متعلقہ ادارہ لے اور اس کے بعد ہی این او سی جاری کیا جائے۔
اگر اس اصول کو نافذ کر دیا جائے تو اس کے کئی مثبت اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ سب سے اہم فائدہ یہ ہوگا کہ ہنگامی حالات میں شہریوں کے پاس فوری تحفظ کے لیے محفوظ جگہ موجود ہوگی۔ اس کے علاوہ شہری منصوبہ بندی میں معیار اور ذمہ داری کا عنصر بھی مضبوط ہوگا کیونکہ بلڈنگ ڈیزائن محض تجارتی یا رہائشی نہیں رہے گا بلکہ اس میں حفاظتی پہلو بھی لازمی شامل ہوگا۔مزید یہ کہ غیر ضروری اور غیر قانونی تبدیلیوں جیسے پارکنگ ایریاز یا سیفٹی زونز کو دکانوں یا تجارتی مقاصد میں تبدیل کرنے کی روش بھی کم ہو جائے گی، کیونکہ یہ جگہیں قانونی طور پر“نان کنورٹیبل سیفٹی اسپیس”قرار دی جا سکتی ہیں۔ اس سے شہری ڈھانچے میں ایک مستقل حفاظتی نظام قائم ہوگا جو کسی بھی بحران کے وقت مؤثر ثابت ہو سکے گا۔
اس تجویز کے نفاذ میں کچھ عملی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ سب سے پہلے تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہوگا، جس کے لیے حکومت کو مرحلہ وار پالیسی اپنانا ہوگی تاکہ بوجھ یکدم عوام پر نہ پڑے۔ دوسرا چیلنج انجینئرنگ کوڈز اور بلڈنگ رولز کی اپڈیٹ ہے، جس کے بغیر اس نظام کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ تیسرا پہلو یہ ہے کہ پرانی عمارتوں کے لیے بھی ایک ریٹروفٹنگ پالیسی بنانا ہوگی تاکہ انہیں بھی کسی حد تک محفوظ بنایا جا سکے۔اسی طرح بلڈنگ کنٹرول اداروں کی تکنیکی صلاحیت اور نگرانی کے نظام کو بھی بہتر بنانا ہوگا تاکہ یہ شق صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ عملی طور پر نافذ ہو۔
اگر ریاست اس سمت میں سنجیدگی سے پیش رفت کرے تو یہ نہ صرف شہری تحفظ کے نظام کو مضبوط کرے گا بلکہ مستقبل کے ممکنہ خطرات کے مقابلے میں قومی تیاری کو بھی ایک نئی سطح پر لے جائے گا۔ دنیا اب اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ جدید شہری ریاستیں صرف ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ“تحفظ پر مبنی منصوبہ بندی”سے مضبوط ہوتی ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بھی اپنی شہری پالیسیوں میں اس بنیادی تبدیلی کو شامل کریں، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ہماری شہری آبادی محفوظ، منظم اور تیار ہو اور ہم محض ردعمل دینے کے بجائے پیشگی تحفظ کے نظام کے ساتھ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کھڑے ہو سکیں۔
شہری تحفظ کا سوال ہمارے ہاں ہمیشہ کسی سانحے کے بعد زیرِ بحث آتا ہے، اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ مگر موجودہ عالمی حالات، جنگی نوعیت کی بدلتی ہوئی حکمت عملی اور بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات نے اس مسئلے کو دوبارہ ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ زیرِ زمین محفوظ پناہ گاہوں کی تعمیر اور انہیں شہری منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنانے کی جو آواز اب اٹھ رہی ہے، وہ درحقیقت ایک دیرینہ خلا کی نشاندہی ہے ایسا خلا جسے ہم نے دانستہ یا نادانستہ طور پر نظرانداز کیے رکھا۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر کیوں ہمارے ہاں شہری ترقی کے ماڈل میں“تحفظ”کو کبھی بنیادی حیثیت نہیں دی گئی؟ ہم نے بلند و بالا عمارتیں ضرور بنائیں، کمرشل مراکز ضرور قائم کیے، مگر ان عمارتوں میں انسانی جان کے تحفظ کے لیے کتنی سنجیدگی دکھائی؟ پارکنگ کے لیے مختص بیسمنٹس کو دکانوں میں تبدیل کر دینا صرف ایک انتظامی کمزوری نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذہنیت کی عکاسی ہے، جہاں فوری مالی فائدہ، طویل المدتی سلامتی پر حاوی ہو جاتا ہے۔
دنیا اس مرحلے سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ جدید جنگی خطرات ڈرون حملے، میزائل ٹیکنالوجی اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت نے ترقی یافتہ اور حساس ممالک کو مجبور کیا کہ وہ اپنے شہری ڈھانچے کو“ڈیفنس اور سیفٹی”کے اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک میں زیرِ زمین شیلٹرز نہ صرف سرکاری سطح پر بلکہ نجی تعمیرات میں بھی لازمی قرار دیے جا چکے ہیں۔ یہ محض جنگی تیاری نہیں بلکہ ایک جامع“سول ڈیفنس کلچر”کا حصہ ہے۔
اس کے برعکس ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ شہری منصوبہ بندی اب بھی روایتی اور غیر مربوط انداز میں جاری ہے۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کا کردار اکثر رسمی کارروائی تک محدود رہ جاتا ہے، اور نقشہ منظوری ایک تکنیکی کے بجائے انتظامی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے میں یہ تجویز کہ ہر نئی تعمیر میں ایک“زیرِ زمین محفوظ کمرہ”لازمی قرار دیا جائے، نہایت بروقت اور حقیقت پسندانہ ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک شق شامل کر دینے سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ یقیناً نہیں۔ اصل چیلنج اس پالیسی کے مؤثر نفاذ کا ہے۔ اگر ماضی کے تجربات کو سامنے رکھا جائے تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ قوانین تو موجود ہوتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد کمزور رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارکنگ ایریاز، فائر سیفٹی زونز اور دیگر لازمی سہولیات اکثر اپنی اصل شکل میں برقرار نہیں رہ پاتیں۔
پناہ گاہوں کے تصورکوکامیاب بنانے کیلئے چند بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے بلڈنگ کنٹرول اداروں کو تکنیکی طور پر مضبوط کرنا ہوگا تاکہ وہ محض نقشہ پاس کرنے والے دفاتر نہ رہیں بلکہ حقیقی معنوں میں حفاظتی معیارات کے نگران بن سکیں۔ دوسرا، اس عمل میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ کسی بھی قسم کی رعایت یا مفاداتی دباؤ اس پالیسی کو کمزور نہ کر سکے۔
تیسرا اہم پہلو عوامی شعور کا ہے۔ جب تک شہری خود اس بات کو نہیں سمجھیں گے کہ یہ شیلٹرز ان کی اپنی بقا کے لیے ہیں، تب تک اس پالیسی کو محض ایک اضافی بوجھ سمجھا جائے گا۔ اس لیے ریاست کو اس حوالے سے آگاہی مہم بھی چلانا ہوگی تاکہ لوگ اسے ایک ضروری سرمایہ کاری کے طور پر قبول کریں۔
مزید برآں، یہ پالیسی صرف نئی تعمیرات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ پرانی عمارتوں کے لیے بھی مرحلہ وار ریٹروفٹنگ کا نظام متعارف کرایا جانا چاہیے۔ بڑے شہروں کو زونز میں تقسیم کر کے اجتماعی نوعیت کے شیلٹرز کی تعمیر بھی ایک مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں آبادی کا دباؤ زیادہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ریاست کی اصل طاقت اس کے اداروں سے زیادہ اس کے شہریوں کے تحفظ میں مضمر ہوتی ہے۔ اگر شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو ترقی کے تمام دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ زیرِ زمین پناہ گاہوں کی تعمیر کا معاملہ محض اینٹوں اور کنکریٹ کا نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک ترجیح اور ایک قومی ذمہ داری کا سوال ہے۔
عصرحاضرمیں زندگی کے تحفظ کو قطعی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ”نعروں کے فریب سے بچاؤممکن نہیں“وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ردعمل کی پالیسی سے نکل کر پیشگی تیاری کی طرف بڑھیں۔ کیونکہ جب خطرہ دروازے پر دستک دے، تو منصوبہ بندی کے لیے وقت نہیں ہوتاصرف نتائج سامنے آتے ہیں۔ اور وہ نتائج ہمیشہ ہماری تیاری کے عکاس ہوتے ہیں۔ موجودہ عالمی حالات، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جدید جنگی خطرات نے ایک بار پھر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ہم اپنی شہری آبادی کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچانے کے لیے تیار ہیں؟ زیرِ زمین محفوظ پناہ گاہوں کی تعمیر کا مسئلہ دراصل اسی بنیادی سوال سے جڑا ہوا ہے—اور بدقسمتی سے اس کا جواب ابھی تک تسلی بخش نہیں۔
ہم نے بطور ریاست اور معاشرہ ترقی کو زیادہ تر عمارتوں کی بلندی، سڑکوں کی چوڑائی اور کمرشل سرگرمیوں کی وسعت سے جوڑا ہے، مگر انسانی جان کے تحفظ کو اس پیمانے میں شامل نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پارکنگ کے لیے مختص بیسمنٹس تک کو دکانوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور ہنگامی حالات کے لیے کوئی متبادل محفوظ نظام موجود نہیں ہوتا۔ یہ محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ ترجیحات کا بحران ہے جو مستقبل میں کسی بڑے سانحے کی صورت میں سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک نے جنگی اور ہنگامی حالات کے تجربات سے سیکھ کر اپنے شہری ڈھانچے میں زیرِ زمین شیلٹرز کو لازمی جزو بنا لیا ہے۔ ان کے ہاں یہ شعور موجود ہے کہ ریاست کی اصل ذمہ داری صرف ترقی نہیں بلکہ اپنے شہریوں کی بقا کو یقینی بنانا بھی ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں بلڈنگ کنٹرول کا نظام زیادہ تر رسمی کارروائی بن کر رہ گیا ہے، جہاں نقشہ منظوری میں حفاظتی تقاضوں کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔
غازیوں سمیت ہرمُحب وطن دُنیا کے حالات کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے اس تجویز کی بازگشت ہے کہ ہر نئی تعمیر میں“زیرِ زمین محفوظ کمرہ”لازمی قرار دیا جائے، ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے، مگر اس کے مؤثر نفاذ کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ صرف قوانین بنا دینا کافی نہیں، بلکہ ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اصل امتحان ہے۔ بلڈنگ کنٹرول اداروں کی تکنیکی صلاحیت، نگرانی کے نظام اور شفافیت کو بہتر بنائے بغیر یہ اقدام بھی ماضی کی طرح محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔
اور پھر ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو ہر معاملے میں محض تعریف، خوشامد اور مبالغہ آرائی کو ہی قومی خدمت سمجھتا ہے۔ یہ عناصر زمین و آسمان کے قلابے ملا کر ہر اقدام کو مثالی قرار دیتے ہیں، مگر جب اصل مسائل،جیسے شہری تحفظ اور ایمرجنسی تیاری کی بات آتی ہے تو خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ رویہ دراصل“ریچارج نیشنلزم”کی ایک شکل ہے، جہاں حب الوطنی کا اظہار نعروں تک محدود رہ جاتا ہے۔ایسے ماحول میں سنجیدہ اور اصلاحی بحث دب جاتی ہے، کیونکہ جو لوگ ریموٹ کنٹرول سوچ کے تحت چلتے ہیں وہ کبھی بھی حقیقی مسائل کو اجاگر نہیں کرتے۔ حالانکہ اصل قومی خدمت یہی ہے کہ کمزوریوں کی نشاندہی کی جائے اور نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی تجاویز پیش کی جائیں، نہ کہ ہر چیز کو بلا تنقید سراہا جائے۔
اگر ہم واقعی ایک محفوظ اور مضبوط معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں شہری منصوبہ بندی میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ ہر نئی تعمیر میں حفاظتی شیلٹرز کو لازمی قرار دینا، پرانی عمارتوں کے لیے ریٹروفٹنگ پالیسی بنانا، اور بڑے شہروں کو زونز میں تقسیم کر کے اجتماعی پناہ گاہوں کی تعمیر جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
یہ وقت نعروں اور نمائشی بیانیے کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ کیونکہ جب خطرہ سامنے آتا ہے تو نہ خوشامد کام آتی ہے اور نہ ہی مبالغہ کام آتی ہے صرف وہ تیاری جو پہلے سے کی گئی ہو۔ یہی وہ کسوٹی ہے جس پر ریاستوں کی سنجیدگی اور قوموں کی بصیرت کا اصل امتحان ہوتا ہے۔علاوہ ازیں یہ پہلو بھی نہایت اہم ہے کہ شہری تحفظ کو محض ایک سرکاری ذمہ داری سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس میں نجی شعبے اور عوامی شعور کا کردار بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تک بلڈرز، ڈویلپرز اور عام شہری اس بات کو اپنی ضرورت نہیں سمجھیں گے، تب تک کسی بھی پالیسی کا مکمل اور مؤثر نفاذ ممکن نہیں ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ نہ صرف قوانین بنائے جائیں بلکہ ان کے ساتھ آگاہی مہم بھی چلائی جائے تاکہ زیرِ زمین محفوظ پناہ گاہوں کو ایک اضافی بوجھ کے بجائے اپنی اور اپنے خاندان کی سلامتی کے ضامن کے طور پر دیکھا جائے۔
وفاق کی نگرانی میں حکومت کو چاہیے کہ ناصرف صوبوں میں بلکہ آزادکشمیرمیں بہرصورت ”آزادحکومت“ کو ساتھ رکھتے ہوئے اس حوالے سے مرحلہ وار حکمت عملی اپنائے، تاکہ تعمیراتی لاگت میں اضافے کے باعث عوام پر فوری بوجھ نہ پڑے۔ نئے منصوبوں میں ان شیلٹرز کو لازمی قرار دینے کے ساتھ ساتھ پرانی عمارتوں کے لیے بھی قابلِ عمل ریٹروفٹنگ پالیسی متعارف کروائی جائے، جبکہ بڑے شہروں میں سرکاری سطح پر اجتماعی نوعیت کی پناہ گاہیں تعمیر کی جائیں تاکہ ہنگامی حالات میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کو فوری تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
بلڈنگ کنٹرول اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا بھی ناگزیر ہے۔ اگر نگرانی کا نظام کمزور رہا تو یہ شق بھی دیگر قوانین کی طرح محض کاغذوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ اس لیے شفافیت، احتساب اور تکنیکی مہارت کو یقینی بناتے ہوئے ایک مضبوط ادارہ جاتی نظام قائم کرنا ہوگا، تاکہ ہر منظور شدہ نقشہ واقعی حفاظتی تقاضوں پر پورا اترتا ہو۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ قومی بیانیے کی تشکیل میں سنجیدگی اور حقیقت پسندی کو فروغ دینا ہوگا۔ محض تعریف اور مبالغہ آرائی پر مبنی سوچ نہ صرف مسائل کو چھپاتی ہے بلکہ ان کے حل میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اہم موضوعات پر کھل کر بات کی جائے، تنقیدی سوچ کو فروغ دیا جائے اور قومی مفاد کو حقیقی معنوں میں سمجھتے ہوئے عملی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
علاوہ ازیں ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ جدید دور میں ریاست کی طاقت کا دارومدار صرف اس کے دفاعی نظام پر نہیں بلکہ اس کی شہری آبادی کے تحفظ کے نظام پر بھی ہوتا ہے۔ اگر شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا زیرِ زمین محفوظ پناہ گاہوں کی تعمیر کو ایک ترجیحی قومی پالیسی کے طور پر اپنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جدید شہری خطرات صرف جنگی نوعیت کے نہیں رہے بلکہ قدرتی آفات، ماحولیاتی تبدیلیوں اور شہری حادثات کی شکل میں بھی سامنے آ رہے ہیں۔ زلزلہ، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور آگ جیسے واقعات ہمارے خطے میں معمول بنتے جا رہے ہیں، جس کے پیش نظر زیرِ زمین محفوظ پناہ گاہیں ایک کثیر المقاصد حل کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ یعنی یہ شیلٹرز نہ صرف جنگی حالات بلکہ قدرتی آفات کے دوران بھی شہریوں کے لیے فوری تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔
پناہ گاہوں کے حوالے سے پالیسی کو صرف مرکزی یا بڑے شہروں تک محدود رکھنا بھی کافی نہیں ہوگا بلکہ چھوٹے شہروں اور حساس جغرافیائی علاقوں، خصوصاً پہاڑی خطوں جیسے آزاد کشمیر میں، اس کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہاں آبادی کا پھیلاؤ، محدود انفراسٹرکچر اور ہنگامی رسائی کے مسائل اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہر سطح پر محفوظ پناہ گاہوں کا ایک مربوط نظام قائم کیا جائے تاکہ کسی بھی آفت یا خطرے کی صورت میں فوری ردعمل ممکن ہو سکے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ان شیلٹرز کی تعمیر محض رسمی تقاضہ نہ بنے بلکہ ان کے معیار، وینٹیلیشن، ایمرجنسی رسائی، خوراک و پانی کی عارضی فراہمی اور کمیونیکیشن سسٹم جیسے پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ ایک غیر معیاری یا ناقص شیلٹر کسی فائدے کے بجائے مزید خطرات کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈیزائن اور نگرانی ناگزیر ہوگی۔
تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور بڑے عوامی مراکز میں اس طرح کی سہولیات کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کرنا چاہیے کیونکہ ہنگامی حالات میں یہی مقامات سب سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ اگر ان جگہوں پر پہلے سے محفوظ پناہ گاہیں موجود ہوں تو بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔
ایک مربوط“سول ڈیفنس کلچر”کو فروغ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس میں نہ صرف انفراسٹرکچر بلکہ تربیت، مشقیں اور عوامی آگاہی شامل ہونی چاہیے تاکہ شہری صرف سہولتوں پر انحصار نہ کریں بلکہ خود بھی ہنگامی حالات میں درست ردعمل دینے کے قابل ہوں۔
ہمیں یہ ادراک بھی کرنا ہوگا کہ قومی سلامتی صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ اگر ہم نے بروقت اس سمت میں اقدامات نہ کیے تو مستقبل میں کسی بھی بحران کے وقت ہماری کمزور تیاری ہمارے لیے ایک بڑا امتحان بن سکتی ہے۔
نیز یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ زیرِ زمین محفوظ پناہ گاہوں کا تصور صرف تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک جامع ریاستی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے۔ جب تک اسے قومی سطح پر ایک مستقل شہری تحفظ حکمت عملی کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک اس کے نتائج محدود رہیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کو ہاؤسنگ، شہری ترقی، بلدیاتی اداروں اور سول ڈیفنس کے درمیان ایک مربوط نظام کے طور پر نافذ کیا جائے۔
یہ بھی اہم ہے کہ اس نظام کی کامیابی کے لیے بین الادارہ جاتی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ اگر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے اور مقامی حکومتیں ایک ہی فریم ورک کے تحت کام نہ کریں تو نہ صرف وسائل کا ضیاع ہوگا بلکہ پالیسی کا عملی اثر بھی کمزور پڑ جائے گا۔
ریاست،شہروں کی جانوں کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے، عوامی سطح پر اعتماد کی بحالی بھی اس پالیسی کا ایک بنیادی جزو ہے۔ جب شہریوں کو یہ یقین ہوگا کہ یہ اقدامات واقعی ان کی حفاظت کے لیے ہیں اور کسی اضافی بوجھ یا رسمی کارروائی کا حصہ نہیں، تب ہی وہ اس نظام کو قبول کریں گے اور اس میں تعاون کریں گے۔ یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ جدید دنیا میں شہری تحفظ کو“اختیاری سہولت”کے بجائے“بنیادی حق”کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لہٰذا ہمارے لیے بھی لازم ہے کہ ہم اپنی پالیسیوں کو اسی سوچ کے مطابق ڈھالیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اور پھر سب سے اہم سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا ہم بطور ریاست اور معاشرہ اس سمت میں سنجیدہ عملی قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟ کیونکہ منصوبے، تجاویز اور بیانات اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، مگر اصل حقیقت ان کے نفاذ سے سامنے آتی ہے۔ اگر زیرِ زمین محفوظ پناہ گاہوں جیسے بنیادی حفاظتی نظام کو محض کاغذی سفارشات تک محدود رکھا گیا تو یہ ایک اور موقع ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب کوئی بحران حقیقت میں سر اٹھاتا ہے تو اس وقت نہ تاخیر کا موقع ہوتا ہے اور نہ ہی تیاری کا۔ اس لمحے صرف وہی نظام کام آتا ہے جو پہلے سے موجود اور فعال ہو۔ یہی وجہ ہے کہ شہری تحفظ کے یہ اقدامات دراصل“بعد میں بچاؤ”نہیں بلکہ“پہلے سے تیاری”کی حکمت عملی ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ترقی یافتہ معاشرے صرف عمارتوں کی خوبصورتی سے نہیں بلکہ اپنی شہری آبادی کے تحفظ کے مضبوط نظام سے پہچانے جاتے ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک ذمہ دار اور محفوظ ریاست کے طور پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات کو دوبارہ ترتیب دینا ہوگاجہاں انسانی جان کی حفاظت ہر دوسری ترجیح پر مقدم ہو۔
مسئلہ دراصل دو سطحوں پر موجود ہے۔ایک طرف شہری تحفظ اور ریاستی تیاری کا۔۔۔۔اس حوالے سے وطن سنجیدہ اور دور اندیش حلقوں کا سوال اور تقاضاخالص عملی اور تکنیکی ہے، اور دوسری طرف ہمارے ہاں بیانیہ سازی اور سیاسی گفتگو کا وہ انداز ہے جس میں اصل مسائل اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بعض حلقے جب بھی کسی سنجیدہ پالیسی یا بنیادی اصلاحات پر بات کرنے کا وقت آتا ہے تو گفتگو کو روایتی سیاسی نعرہ بازی، بین الاقوامی بیانیے یا جذباتی حوالوں کی طرف موڑ دیتے ہیں۔“مقبوضہ کشمیر”،“انسانی حقوق”یا“ عالمی برادری”جیسے الفاظ یقیناً اہم ہیں اور ان کی اپنی ایک سیاسی و سفارتی حیثیت ہے، لیکن جب اندرونی شہری تحفظ، قدرتی آفات یا ممکنہ جنگی خطرات جیسے بنیادی مسائل زیر بحث ہوں تو اصل فوکس تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں پالیسی مباحث اکثر“ری ایکٹو بیانیہ”کی نذر ہو جاتے ہیں، یعنی فوری جذباتی یا سیاسی ردعمل تو موجود ہوتا ہے مگر عملی تیاری اور ادارہ جاتی اصلاحات کا پہلو کمزور رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیرِ زمین محفوظ پناہ گاہوں جیسے بنیادی شہری تحفظ کے تصورات کبھی مستقل پالیسی کا حصہ نہیں بن سکے۔
یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ سیاسی اور انتظامی سطح پر بعض اوقات ترجیحات کا تعین ذاتی یا وقتی مفادات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ٹھیکوں، نوکریوں اور سیاسی اثر و رسوخ کے گرد گھومنے والے نظام میں طویل المدتی قومی منصوبہ بندی اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ نتیجتاً ایسے بنیادی سوالات، جیسے کہ جنگی یا ہنگامی صورتحال میں شہری آبادی کو کیسے محفوظ رکھا جائے، وہ سنجیدگی نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہیں۔
یہ بات بار بار سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ آج کی جنگی حقیقت صرف روایتی محاذ تک محدود نہیں رہی۔ میزائل، ڈرون ٹیکنالوجی، اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت نے پورے تصورِ جنگ کو بدل دیا ہے۔ ایسے میں شہری آبادی کے تحفظ کے لیے زیرِ زمین پناہ گاہیں، ایمرجنسی شیلٹرز، اور مربوط سول ڈیفنس سسٹم اب کوئی اختیاری چیز نہیں بلکہ بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو کسی بھی ریاست کی تیاری اور سنجیدگی کا اصل امتحان ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بیانیہ سازی اور عملی پالیسی کے فرق کو واضح کریں۔ ایک طرف سفارتی اور سیاسی مسائل اپنی جگہ اہم ہیں، مگر دوسری طرف اندرونی ریاستی تیاری، شہری تحفظ اور ادارہ جاتی مضبوطی وہ بنیاد ہے جس پر کسی بھی قوم کی بقا اور وقار قائم ہوتا ہے۔اگر ہم واقعی ایک محفوظ اور باوقار معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں جذباتی اور نمائشی بیانیے سے نکل کر حقیقی پالیسی ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔ کیونکہ آخرکار جنگ ہو، آفت ہو یا کوئی بھی ہنگامی صورتحال زندگیاں نعروں سے نہیں بلکہ تیاری اور نظام سے بچتی ہیں۔

