مردان (این این آئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیر اہتمام مردان شاہ زمان قلعہ میں اولسی جرگے کا انعقاد ہوا۔ جس سے پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ ، شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی ، سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا، مرکزی سیکریٹری علی حیدر اور گوہر علی نے خطاب کیا۔ مقررین نے پشتون عوام کی ابتر صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں نے پشتون عوام کو زندگی کے تمام بنیادی حقوق سے یکسر محروم کر رکھاہے۔ اور پشتون ایک مزدور قوم بن گیاہے حالانکہ اس ملک کے دریاؤں کے پانی سستی بجلی ، گیس ، جنگلات اور ہر قسم کے معدنیات کے ذخائر سے پشتونخوا وطن مالامال ہے۔ لیکن پشتونوں کا اپنے قومی وسائل پر کوئی اختیار نہیں اگر پنجاب کی طرح پشتونوں کو سیاسی اقتدار حاصل ہوتا تو آج پشتونخوا وطن بھی اپنے قدرتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اعلیٰ معیار کا تعلیم و صحت کا نظام قائم کرتا اور اپنے خام مال کیلئے صنعتوں کو پنجاب کی طرح ترقی دیکر اپنے عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کرتا اور موٹرویز کا جال بچھاتا۔ لیکن آج اپنے جان و مال عزت و ناموس کے تحفظ کیلئے سرگرداں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1991 میں پشتونو ں پر انڈس واٹر ایکاڈ مسلط کیا گیا۔ جس میں پشتون تاریخی اباسین کے پانی پر اپنے قومی حق ملکیت سے اس حد تک محروم ہوا کہ کوہاٹ سے ڈیرہ اسماعیل خان تک لاکھوں ایکڑ کی اراضی کو آج تک سیراب نہیں کر سکتا۔ واٹر ایکاڈ کے تحت تین صوبوں کے نہروں کی تعمیر وفاق نے چند سالوں کو مکمل کی ہے لیکن چشمہ رائٹ لیفٹ کنال کا 34 سالوں میں تعمیر کا آغاز نہ ہوسکا۔ ملک گیر پارٹیوں میں سے کسی نے بھی پشتونخوا صوبہ کی بجلی کی خالص منافع ہزاروں ارب کی واجب الادا رقم کی ادائیگی نہیں کی اور نہ ہی تمباکو کوذراعتی فصل قرار دیکر اس کا سینکڑوں ارب کا ٹیکس پشتونخوا کو ادا کیا۔ پشتونوں کو کشمیر اور گلگت کی عوام کی طرح احتجاجی تحریکوں سے سستی بجلی اور ناروا ٹیکسوں کے بر حق مطالبات تسلیم کروانے ہونگے۔ا نہوں نے کہا کہ پشتون عوام کے شناختی کارڈ کے حصول کا الگ نظام بنایا گیا ہے اور ہر پشتون کو شناختی کارڈ اور لائسنس، پاسپورٹ کیلئے ملک سے وفاداری کا ثبوت پیش کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل ایک بار پھر پشتونخوا صوبے کی ملک سے وابستگی کا تذکرہ زیر بحث ہے۔ حالانکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس ملک میں پشتونخوا کو کیا مقام حاصل ہے۔ کیا پنجاب سندھ اور بلوچستان کی طرح تمام پشتونوں کا متحدہ اور خود مختار قومی صوبہ ہے کیا اس کو قومی شناخت اور تشخص حاصل ہے کیا پشتونخوا کے بے مثال قدرتی وسائل اور ذخائر پر پشتون عوام کا قومی حق ملکیت حاصل ہے اور پشتونوں کو ایک قوم وفاقی قومی وحدت سے قومی برابری کا حق حاصل ہے آج پشتونوں کا اولین مسئلہ اس ملک میں بولان تا چترال متحدہ قومی صوبہ پشتونخوا کا قیام اور قومی برابری ہے جس کیلئے وطن پال جمہوری قوتیں قومی محاذ قائم کریں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- پٹرولیم مصنوعات قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لیا جائے،محمود خان بادینی
- پیٹرول مہنگا ہونے پر حاجی میر زابد علی ریکی کا انوکھا احتجاجی انداز، اونٹ پر سواری کر کے شاہراؤں کا دورہ
- سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا شہید زوالفقارعلی بھٹو کی برسی کے موقع پر پیغام
- سابق وزیراعلیٰ بلوچستان میرجان محمدجمالی کا اظہار تعزیت
- بیلہ کے قریب کار اور موٹرسائیکل میں تصادم،ایک شخص جاں بحق،دوسرازخمی
- پی ایم اے کوئٹہ کی سول ہسپتال میں منعقد ہ پالیسی بورڈ میکرز کے انتخابات کے کامیاب انعقاد پر الیکشن کمیشن،نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد
- چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ زہری کا دورہ نال، سردار اسلم بزنجو اور میر ظاہر بزنجو سے اظہارِ تعزیت و فاتحہ خوانی
- بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب محض سائنسی بحث نہیں رہے تلخ زمینی حقیقت بن چکے ہیں،سینیٹر محمد عبدالقادر
- بلوچستان،پنک و گرین بس ایک ماہ کیلئے فری، مارکیٹیں 8بجے،شادی ہالزو ریسٹورنٹ رات 10بجے بند کرنے کا فیصلہ
- تعلیمی ادارے بند؟سوشل میڈیا پر وائرل نوٹیفکیشن جعلی قرار

