باجوڑ/راولپنڈی (این این آئی)خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاک-افغان بارڈر پر سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے ایک گروہ کی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے 29 اور 30 کی درمیانی شب باجوڑ میں پاک-افغان بارڈر پر دراندازی کی کوشش کی۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج کے گروہ کی دراندازی کے خلاف موثر کارروائی کی گئی اور ان کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں انتہائی مطلوب خارجی امجد عرف مزاحم بھی شامل تھا، ہلاک ہونے والا خارجی امجد، خوارج کمانڈر نور ولی کا نائب تصور کیا جاتا تھا اور بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کی رہبری شوریٰ کا سربراہ تھا۔ترجمان پاک فوج کے مطابق خارجی کمانڈر امجد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھا جبکہ حکومت نے اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی تھی، ہلاک ہونے والا دہشت گرد افغانستان میں رہائش پذیر ہونے کے باوجود پاکستان کے اندر متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فتنہ الخوارج کی قیادت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دراندازی کی کوششوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس کا مقصد پاکستان کے اندر اپنی موجودگی کا تاثر دینا اور باجوڑ و مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں سے خوارج کا گرتا ہوا حوصلہ بحال کرنا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ایک بار پھر یہ واضح کیا جاتا ہے کہ عبوری افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین کو خارجی گروہوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ کہا گیا کہ یہ واقعہ ہمارے اْس مؤقف کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ افغان سرزمین مسلسل فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے لیے پاکستان کے خلاف محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔آئی ایس پی آرنے بتایا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے پرعزم اور ثابت قدم ہیں، علاقے میں سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی دہشت گرد کی موجودگی کو ختم کیا جا سکے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ عزمِ استحکام کے وژن کے تحت،سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشت گردی مہم پوری رفتار کے ساتھ جاری رہے گی تاکہ غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے اس ناسور کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

