کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں آئی پی پیز کی حکومت اور حکومتی نظام کے گرد گرفت انتہائی مضبوط ہے آئی پی پیز نے حکومتوں کو یرغمال بنا رکھا ہے 100 کے لگ بھگ آئی پی پیز کے سامنے ریاست بے بس نظر آتی ہے وزیر برائے توانائی حکومتی نمائندے بننے کی بجائے ان آئی پی پیز کے نمائندے اور وکیل بنے ہوئے ہیں حکومت کو 25 کروڑ پاکستانیوں کی کوئی فکر نہیں اگر کوئی پاکستانی اپنے پیسے سے سولر سے توانائی حاصل کرتا ہے تو حکومت اسکی حوصلہ شکنی کیوں کرتی ہے؟ حکومت 25 کروڑ لوگوں کی نمائندہ ہے یا ان آئی پی پیز کی؟ غضب خدا کا کسی کو عوام کی تکالیف کی پرواہ نہیں ملک کی 45 فیصد سے زائد آبادی کی آمدنی 15 ہزار روپے ماہانہ سے بھی کم ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیرمین قایمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوارسینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ 15 کروڑ سے زاید لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں تمام حکومتیں ان پسے ہوئے پاکستانیوں کی مجرم ہیں حکومت ان غریب پاکستانیوں پر ظلم بند کرے اور ان آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کروائے آج تک کوئی حکومت ان آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ نہیں کروا سکی جس سے یہ یقین ہوتا ہے کہ تمام حکومتیں ان آئی پی پیز کی لوٹ مار میں حصے دار ہیں ہر سال یہ آئی پی پیز 25 کروڑ غریبوں کی جیبوں سے 3600 ارب روپے سے زائد نکالتے ہیں وزیر اعظم اس سنگین صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور متعلقہ وزیر کی اس سلسلے میں بازپرس کریں وزیراعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ متعلقہ وزیر سے اس بابت جواب طلب کرکے آئی پی پیز کے ہاتھوں لٹنے والی عوام کو دلاسہ دیں غریب عوام کی سکت جواب دے چکی ہے اس لیے لوٹ مار کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔

