لاہور(این این آئی)اپنے لفظوں کے جادو سے ادبی فضاں کو سحر زدہ کر دینے والی خوشبوؤں اور محبتوں کی شاعرہ پروین شاکر کی 73ویں سالگرہ منائی گئی۔24 نومبر 1952 کو کراچی میں پیدا ہونے والی عظیم شاعرہ پروین شاکر شاعری کے افق پر ماہ تمام بن کر ابھریں، انہوں نے انگریزی ادب اور لسانیات کے علاوہ ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔پروین شاکر کیلئے ایک انوکھا اعزاز یہ بھی تھا کہ جب وہ سی ایس ایس میں بیٹھیں تو امتحان میں ایک سوال انہی کی شاعری سے متعلق تھا۔پروین شاکر اردو شاعری میں ایک تازہ ہوا کے جھونکے کے مانند تھیں، انہیں بہت کم عرصے میں پاکستان اور بیرون ملک بے پناہ شہرت ملی، پروین شاکرنے زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کو نہایت خوبصورتی سے لفظوں کے قالب میں ڈھال۔خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے مشہور مجموعہ کلام ہیں، پروین شاکر کی پہلی کتاب خوشبو کو آدم جی ایوارڈ ملا، حکومت پاکستان نے پروین شاکر کو پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا۔

