کوئٹہ(این این آئی) وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ خواتین پر تشدد نہ صرف انفرادی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ پورے معاشرے کی فکری، سماجی اور اخلاقی صحت کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کی مناسبت سے جاری اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ تشدد کی ہر شکل میں چاہے وہ گھریلو جبر ہو، ہراسانی ہو، دھمکی، تذلیل، یا معاشی دباؤ، عورت کی آزادی، اس کے اعتماد، اس کی خودی اور اس کے وقار کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عورت کو درپیش مسائل صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہ رویّوں، بول چال، ماحول، مواقع اور طاقت کے توازن تک پھیلے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عورت اپنے گھر، کام کی جگہ یا عوامی مقام پر محفوظ محسوس نہیں کرتی، تو یہ صرف اس کی ذات کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ یہ معاشرے میں عدم توازن، غیر یقینی اور عدم استحکام کو جنم دیتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو اپنے آدھے حصے کو خوف، جبر یا معاشی بیبسّی میں جکڑ دے، وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مہذب اور باشعور معاشرے کی اصل پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی خواتین کو تحفظ، احترام، اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی مکمل آزادی مہیا کرے۔ مشیر ترقیِ نسواں نے مذید کہا کہ حکومتِ بلوچستان خواتین پر تشدد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر مکمل عمل پیرا ہے اور اس حوالے سے مؤثر قانون سازی، سرکاری اداروں کی مضبوطی، آگاہی پروگرامز، ہیلپ لائنز، شیلٹر ہومز، اور سپورٹ سروسز جیسے عملی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے معاشرتی سطح پر بھی رویّوں میں تبدیلی ضروری ہے تاکہ وْہ ایک محفوظ، باوقار اور بااختیار زندگی گزار سکیں۔

