کوئٹہ(این این آئی)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ نے مکران میڈیکل کالج تربت سمیت تینوں نئے میڈیکل کالجزمکران، جھالاون اور لورالائی کے ڈاکٹرز کی تنخواہوں کی مسلسل بندش اور غیر ضروری تاخیر پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام میڈیکل ٹیچنگ فیکلٹی اور دیگر ڈاکٹرز کی تنخواہوں کی فوری، باقاعدہ اور بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جون 2024 سے تنخواہوں میں جاری رکاوٹ نہ صرف ڈاکٹرز کے معاشی و ذہنی مسائل میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ ان اداروں کے طبی و تدریسی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہیڈاکٹرز کے مطابق کئی ماہ سے تنخواہیں باقاعدگی سے جاری نہیں کی جا رہیں، جس کے باعث کنٹریکٹ اور ایڈہاک بنیادوں پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر شدید مالی دباؤ اور ذہنی پریشانی کا شکار ہیں اس کے باوجود یہ ڈاکٹرز عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیکل طلبہ کی تدریسی ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں جو حکومت کی جانب سے اْن کے جائز حقوق کی عدم فراہمی کے پیش نظر انتہائی مایوس کن ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کو متعدد بار آگاہ کیے جانے کے باوجود کوئی عملی قدم نہ اٹھایا گیا، جس کے نتیجے میں تینوں میڈیکل کالجز کے ڈاکٹر اب اجتماعی استعفوں پر غور کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو پہلے سے کمزور صحت کا ڈھانچہ مزید بحران کا شکار ہو جائے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ نے صوبے کے مجموعی صحت کے بگڑتے نظام،اداروں سے لے کر ہسپتالوں تک پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ اگر تینوں نئے قائم شدہ میڈیکل کالجز کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو ایسوسی ایشن سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہوگی۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی صورت تدریسی فیکلٹی کے کیریئر، میڈیکل طلبہ کے مستقبل اور ہمارے صحت کے نظام کو غیر سنجیدگی یا نااہلی کی بھینٹ چڑھنے نہیں دے گی۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ نے حکومتِ بلوچستان اور محکمہ صحت سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کے مطالبات فوری تسلیم کئے جائیں جس میں تمام میڈیکل ٹیچنگ فیکلٹی اور دیگر ڈاکٹرز کی تنخواہوں کی فوری، باقاعدہ اور بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے،تمام میڈیکل ٹیچنگ فیکلٹی اور دیگر ڈاکٹرز کو مستقل بنیادوں پر تعیناتی عمل میں لایا جائے،مکران، جھالاون اور لورالائی میڈیکل کالجز کے انتظامی، مالی اور تدریسی مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ نے کہا کہ اگر حکومت نے ڈاکٹرز کے جائز مطالبات کو فوری طور پر تسلیم نہ کیا تو ایسوسی ایشن اپنا آئینی و جمہوری لائحہ عمل جلد پیش کرے گی۔

