کوئٹہ (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کی کورٹ مارشل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کورٹ مارشل کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی افیسران پر سیاست پر مداخلت پر پابندی کے باوجود جنرل باجوہ اور فیض حمید سیاسی مداخلت کرتے رہے اور سیاسی مداخلت کیس میں فیض حمید کو 14 سال قید با مشقت کی سزا جبکہ بھٹو شہید کو سازش کیس میں پھانسی کی سزا سنائی گئی کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟؟ نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور فیض حمید نے سیاسی انجینئرنگ کرکے ملک اور بلوچستان کو نقصان پہنچایا لیکن جنرل فیض حمید کو صرف 14 سال قید با مشقت کی سزا ہوئی جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو سازش کے تحت ایک کیس میں پھانسی کی سزا دی گئی ایک ایسا کیس جس میں شہید ذوالفقار علی بھٹو ملوث ہی نہیں تھے اور سپریم کورٹ کے فل بینچ نے بھٹو شہید کی قتل کو عدالتی قتل قرار دیا ہے انھوں نے کہا کہ جنرل فیض حمید اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماتحت تھے تو دونوں جنرلز کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چایئے انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی میں دونوں جنرلز کی مداخلت رہی اور ان ہی کوتاہیوں کے باعث بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال دوبارہ خرابی کی جانب گامزن ہوا، میرے دور حکومت سے چمن سے کراچی، کوئٹہ سے اسلام آباد اور کوئٹہ سے سندھ و پنجاب تک قومی شاہراہیں محفوظ تھے اور حالات میں نمایا بہتر نظر آرہی تھی انھوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کسی سیاسی جماعت یا رکنِ اسمبلی کی نہیں بلکہ جنرل فیض حمید کی لائی ہوئی تھی فیض حمید کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے تھی انھوں نے کہا کہ نہ صرف فیض حمید بلکہ جنرل قمر باجوہ کے خلاف بھی آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مقصد یہی ہے کہ آئندہ کوئی بھی فوجی جنرل سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کرے اور جمہوریت پنپتی رہے نواب ثناء اللہ خان زہری نے خود احتسابی عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ فیض حمید کے ماتحت فوجی افیسران کو بھی شامل تفتیش کیا جائے انھوں نے کہا کہ ہمیں سیاسی انتقام کا شکار بنایا گیا سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا آڈیو کلپ بھی موجود ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کو توڑا جارہا ہے، سابق وزیر اعلی نواب ثناء اللہ زہری نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں اکثریتی جماعت ہونے کے باوجود ان کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا اور میری اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی کو اس قدر مجبور کیا گیا کہ وہ بلوچستان اسمبلی میں ایک اقلیتی جماعت کے ساتھ جا کھڑے ہوئے جس کے صرف پانچ اراکین تھے، جبکہ ان میں سے بھی دو اس وقت تحریکِ عدم اعتماد کے مخالف تھے۔ انہوں نے کہا کہ راتوں رات ایک نئی جماعت بنانے کے پیچھے بھی جنرل فیض حمید ہی تھے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور سیاسی انجینئرنگ پر جب اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باوجوہ سے 2 مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ ”میں“ فیض حمید کو آج ہی واپس بلاتا ہوں لیکن جنرل باجوہ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کے باوجود جنرل فیض حمید 4روز تک کوئٹہ میں قیام پذیر رہے اور سیاسی انجینئرنگ میں برائے راست ملوث رہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انھیں جنرل قمر جاوید باجوہ کی مکمل حمایت حاصل تھی نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا کہ سیاسی انجینئرنگ اور بلوچستان حکومت کے خاتمے کے خلاف اس وقت کے تمام ٹیلی فونک ریکارڈنگ اور تمام تر شوائد موجود ہیں ہم امید کرتے ہیں کہ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے متعلق کیس میں اگر پاک فوج کی جانب سے ہمیں بلایا جائیگا، انھوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو ہم تمام ثبوتوں کے ساتھ جائیں گے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا کہ انہیں

