کوئٹہ(این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت میں تاجر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں حکومت تاجروں کو سہولیات کی فراہمی کی بجائے انہیں مختلف حیلے بہانوں سے تنگ کررہی ہے جس سے تاجروں میں تشویش پائی جاتی ہے،حکومت تاجروں پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی بجائے فوری ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات کرے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو اپنی رہائش گاہ ہزارہ ٹاون میں سپریم کونسل کے رکن الیاس زاہدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر محمد علی ہزارہ،ٹرانسپورٹر ایسوسی ایشن کے جان محمد ہزارہ نے اپنے ساتھیوں سمیت مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کیا۔ کاشف حیدری نے نئے شمولیت کرنے والے محمد علی ہزارہ،جان محمد ہزارہ اورانکے ساتھیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انکی شمولیت سے کوئٹہ میں مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان مزید فعال اور منظم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ تاجر برادری آج کل جن حالات سے گزر رہی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں حکومت تاجر کو وہ مقام دینے کے بجائے انہیں ٹیکسوں کی مشین بناکر پیش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تاجروں پر لیبر ٹیکس، ٹریڈ ٹیکس کی فیسوں میں اضافے اور آئے روز نئے نئے ٹیکسوں سے تاجروں کو پریشان کیا جارہاہے یہ ٹیکسز ناقابل برداشت ہوچکے ہیں ایسی صورتحال میں تاجر نہ صرف مالی طورپردباؤ کا شکار ہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی پریشان ہیں جو کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ تاجر معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں وفاقی اور صوبائی حکومتیں تاجروں کو ٹیکسز میں ریلیف فراہم کریں اورانکے مسائل حل کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پراقدامات اٹھائیں تاکہ تاجر پرسکون ماحول میں اپنا کاروبار کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ کوئٹہ شہر میں آئے روز امن وامان کی صورتحال روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے دن دیہاڑے شہریوں سے اسلحہ کے زور پر موٹرسائیکلیں،موبائل فون اوردیگرقیمتی سامان چھین لیا جاتا ہے گزشتہ دنوں ارباب کرم خان روڈ پر دن دیہاڑے ڈکیتی کے دوران مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان سے موٹرسائیکل چھین لیا گیا جسے تاحال پولیس برآمدکرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ آئی جی پولیس،ڈی آئی جی اوردیگر متعلقہ حکام کوئٹہ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لیں اور پولیس کوڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے احکامات جاری کریں۔

