لورالائی (میاں عامر بشیر آرائیں) کاکڑ جمہوری پارٹی لورالائی کے مرکزی و ضلعی رہنماؤں نے لورالائی پریس کلب میں ایک انتہائی پرہجوم اور اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان مہاجرین کے خلاف جاری حکومتی پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ موجودہ کارروائیاں انصاف اور قانون کی روح کے سراسر منافی ہیں، کیونکہ ان کارروائیوں کا ہدف صرف غریب، بے سہارا اور محنت کش افغان مہاجرین بنائے جا رہے ہیں، جبکہ بااثر، سرمایہ دار اور کاروباری طبقہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں نے واضح کیا کہ پاکستان کے عوام کو کسی مزدور کارڈ رکھنے والے، رجسٹرڈ یا محنت کش افغان مہاجرین سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق عوام کو اصل نقصان غیر قانونی طور پر بنائے گئے شناختی کارڈز، جعلی رہائشی دستاویزات اور نادرا سمیت دیگر اداروں کے نام پر جاری کیے گئے جعلی کاغذات سے پہنچ رہا ہے، جن کے ذریعے غیر قانونی افراد نہ صرف کاروبار کر رہے ہیں بلکہ قومی وسائل پر بھی بوجھ بنے ہوئے ہیں۔
رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ جعلی دستاویزات بنانے والا مافیا برسوں سے متحرک ہے اور افسوسناک طور پر اس پورے نیٹ ورک کو بعض مقامی بااثر افراد، سرکاری اہلکاروں اور حکومتی سطح پر سہولت کاری حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی قانون نافذ کرنے والے ادارے سنجیدہ ہوتے تو یہ جعلی نیٹ ورک کب کا بے نقاب ہو چکا ہوتا، مگر افسوس کہ آج تک کسی بڑے مگرمچھ کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔کاکڑ جمہوری پارٹی کے رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ آخر ایک ہی ملک میں دو قانون کیوں نافذ ہیں؟ غریب مزدور، ریڑھی بان اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مہاجرین کو توڑ پھوڑ، بے دخلی اور ہراسانی کا سامنا ہے، جبکہ جعلی دستاویزات کے ذریعے بڑے کاروبار چلانے والوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دوہرا معیار کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغان مہاجرین کے مسئلے کو زبردستی، دھونس اور طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ایک جامع، منصفانہ اور انسانی بنیادوں پر مبنی پالیسی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پہلے مرحلے میں جعلی شناختی کارڈز اور دیگر غیر قانونی دستاویزات بنانے والوں، ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، تاکہ اصل مجرم قانون کی گرفت میں آ سکیں۔پریس کانفرنس کے اختتام پر رہنماؤں نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ کاکڑ جمہوری پارٹی ہر فورم پر غریب مہاجرین کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا:
“ایک ملک، دو قانون—نامنظور، نامنظور”انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ افغان مہاجرین سے متعلق پالیسی پر فوری نظرثانی کی جائے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔

