کوئٹہ،چھاپوں کا سلسلہ بند، سامان ترسیل کو بلاجواز متاثر و ضبطگی،رکشوں کی پکڑ دھکڑ بند کی جائے،مرکزی انجمن تاجران بلوچستان

کوئٹہ(این این آئی) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے زیر اہتمام کوئٹہ میں بڑیچ مارکیٹ لنک سرکی روڈ پر ایف سی، کسٹم کے ناروا چھاپوں اور زرنج لوڈر رکشہ کی بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے عبدالرحیم کاکڑ، حضرت علی اچکزئی، میر یاسین مینگل، کلیم اللہ کاکڑ، عمران ترین، محمد جان درویش، امیر جان آغا، حاجی روزی گل بڑیچ، حاجی داؤد اکا، حاجی رحمت اللہ اچکزئی، عبداللہ اچکزئی، نور محمد اکا، حاجی عرب اچکزئی، حاجی حیات اچکزئی، حاجی شن گل اچکزئی و دیگر نے کہا کہ کوئٹہ میں کسٹم حکام کی جانب سے ایف سی کے ساتھ ملکر رات گئے تاجروں کے گوداموں پر چھاپے مارے جارہے ہیں جس میں کروڑوں روپے مالیت کے سامان کو غیر قانونی قراردیکر ضبط کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کے اندرترسیل کے دوران جبل نور، بلیلی، ہزار گنجی سمیت دیگر علاقوں لیگل سامان کی ترسیل کرنے والی گاڑیوں کو روک کر ایف سی حکام مختلف بہانوں کے ذریعے لیگل سامان، شمسی پینلز کو نہ صرف ضبط بلکہ کیسز بھی دائر کرتے ہیں جس سے تاجر اپنے جائز سامان کے لیے تمام تر کاروبار چھوڑ کر صبح و شام ایف سی اور کسٹم کے دفاتر کے چکر لگاتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ان کی شنوائی نہیں ہورہی۔ مقررین نے کہا کہ تاجروں کے چند سال قبل احتجاج کے بعد کسٹم حکام نے یقین دہانی کروائی تھی کہ کمرشل علاقوں میں چھاپے نہیں مارے جائیں گے لیکن جب سے نئے کسٹم کلیکٹر آئے ہیں ایک بار پھر چھاپوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے اور رات کے اندھیرے میں بلاجواز تاجروں کو تنگ کر نے کے لیے گوداموں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بارڈر بند ہونے کے بعد کسی قسم کا سامان اب شہر میں نہیں آرہا لیکن اس کے باوجود چھاپوں کا سلسلہ سمجھ سے بالاتر اور تاجر دشمن پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاجروں کے جائز اور لیگل سامان کو تحویل میں لیکر غیر قانونی قراردینے کا سلسلہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے ہم سرکاری خزانے میں ٹیکس جمع کروا کر تمام تر تجارت کر رہے ہیں کسٹم حکام کا رویہ جائز تجارت کو فروغ دینے کے بجائے اس کے خاتمے کی جانب لیکر جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی گودام میں شک کی بنیاد پر کاروائی کی جارہی ہے تو اس سے قبل تاجر کو اطلاع دینا لازم ہے لیکن ایسا نہیں کیا جارہا جبکہ تاجر جب اپنے سامان کی رسیدیں دیکھاتے ہیں انہیں بھی تسلیم نہیں کیا جاتا اور بعد میں اسے غیر قانونی قراردیکر کسٹم حکام اپنی کارکردگی ظاہر کرتے ہیں۔مقررین نے کہا کہ پارکنگ کے متبادل مقامات اور پارکنگ پلازوں کی تعمیر کیے بغیر انتظامیہ نے شہر کے تجارتی مراکز جناح روڈ، قندھاری بازار، لیاقت بازار، عبدالستار روڈ سمیت دیگر علاقوں کو کو نو پارکنگ قراردیکر گلیوں کو پارکنگ بنادیا ہے تاجروں کے کاروبار کو ختم کرنے کے بعد اب انتظامیہ کہتی ہے کہ اس اقدام کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ٹریفک کے بہاؤ کے نا م پر زرنج اور چنگچی رکشوں کو بند کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے شہر میں سڑکیں چوڑی کرنا، نئی سڑکیں بنانا تاجروں نہیں بلکہ حکومت کا کام ہے حکومت اپنی نااہلی کا ذمہ دار غریب عوام کو ٹھہرا کر ان کے روزگار پر لات مار رہی ہے حکومت جب نوجوانوں کو روزگار نہیں دے سکتی تو اسے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ محنت کشوں کے منہ کا نوالہ نہ چھینے شہر میں زرنج رکشوں سے متعلق اپنایا گیا لائحہ عمل انتہائی نامناسب اور ناقابل قبول ہے حکومت کو چاہیے بجائے لوگوں کے لاکھوں روپے کا نقصان کرے ان رکشوں کو مرحلہ وار پرمٹ جاری کیا جائے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ شہر میں چھاپوں کا سلسلہ بند، سامان کی ترسیل کو بلاجواز متاثر اور سامان ضبط کرنے، زرنج رکشوں کی پکڑ دھکٹر بند کی جائے۔انہوں کہا کہ تاجروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے اگر ہماری دکانداری، کاروبار اور روزگار کو متاثر کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو ہم کسٹم اور ایف سی کے دفاتر کے باہر بھر پور احتجاج کرنے اور اپنے احتجاج کو وسعت دینے سے کسی صورت گریز نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی انجمن تاجران آئندہ چند دنوں میں پریس کانفرنس کے ذریعے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں